ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 438
438 وکلاء کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ یہ کام جلد کر سکیں۔اسی طرح احمدی سیاستدانوں کو جو مختلف ممالک میں ہیں یا سیاستدانوں کے جو قریب ہیں، اُن کو بھی اس معاملے کو احسن رنگ میں کسی فورم پر رکھنا چاہئے کہ آزادی رائے کی کوئی حدود مقرر ہونی چاہئیں ورنہ دنیا پہلے سے بھی زیادہ فساد میں مبتلا ہو جائے گی۔" الفضل انٹر نیشنل 26 اکتوبر 2012ء) رشدی کی بدنام زمانہ کتاب کا جواب ایک ہندو مصنف سلمان رشدی نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام و قرآن کے خلاف تہذیب سے گری ہوئی ایک کتاب Satanic Verses تحریر کی۔یہ کتاب حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے دور میں شائع ہوئی اور آپ نے اس وقت اس کے خلاف آواز بلند فرمائی اور بعض اقدام اٹھائے جن میں ارشد احمدی کی ایک کتاب بھی شامل ہے جو رشدی کی کتاب کے جواب میں لکھی گئی تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں ایک باب کا اضافہ کروا کر اور بعض ترامیم کے ساتھ اس کی دوبارہ اشاعت کا ارشاد فرمایا۔جس کا ذکر آپ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جون 2007 ء میں فرمایا۔آپ فرماتے ہیں : اسلام تشدد کا مذہب نہیں " آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اور اس کی ترقی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو کھڑا کیا ہے۔آج مسلمانوں کی اس کھوئی ہوئی میراث کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں نے اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اور اپنے دلوں کو تقو می سے پر کرتے ہوئے واپس لانا ہے۔پس یہ احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اس سلامتی کے پیغام کو ہر طرف پھیلاتا چلا جائے۔ہر دل میں یہ بات راسخ کر دے کہ اسلام تشدد کا نہیں بلکہ پیار اور محبت کا علمبر دار ہے۔ہر سطح پر اسلام کی تعلیم امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کی تعلیم ہے۔اسلام نے قوموں اور ملکوں کی سطح پر بھی امن اور سلامتی قائم کرنے کے لئے جو خوبصورت تعلیم دی ہے اس کا مقابلہ نہ کوئی انسانی سوچ کر سکتی ہے اور نہ کوئی مذہب کر سکتا ہے۔اس خوبصورت تعلیم پر عمل سے ہی دنیا کا امن اور سلامتی قائم ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسلام پر استہزاء کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا سلوک پس آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پر چار کرے۔باقی رہا یہ کہ جو اسلام پر استہزاء کرنے سے باز نہیں آتے ان سے کس طرح نپٹا جائے۔اس بارہ میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے لوگوں کی بدقسمتی نے ان کے فعل ان کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھی باتیں کر رہے ہیں اور ان لوگوں نے آخر پھر اس زندگی کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو خدا تعالیٰ انہیں آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔پھر ان سے وہ سلوک کرے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ