ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 437
437 Turkey) میں لکھتا ہے کہ : اگر کسی شخص کی قابلیت کو پر کھنے کیلئے تین معیار مقرر کئے جائیں کہ اُس شخص کا مقصد کتنا عظیم ہے، اُس کے پاس ذرائع کتنے محدود ہیں اور اُس کے نتائج کتنے عظیم الشان ہیں تو آج کون ایسا شخص ملے گا جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مقابلہ کرنے کی جسارت کرے۔دنیا کی شہرہ آفاق شخصیات نے صرف چند فوجوں، قوانین اور سلطنتوں کو شکست دی۔اور انہوں نے محض دنیاوی حکومتوں کا قیام کیا اور اُن میں سے بھی بعض طاقتیں اُن کی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئیں۔مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہ صرف دنیا کی فوجوں، قوانین، حکومتوں، مختلف اقوام اور نسلوں بلکہ دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی کو یکجا کر دیا۔مزید برآں اُس نے قربا نگاہوں، خداؤوں ، مذاہب، عقائد، افکار اور روحوں کی تجدید کی۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بنیاد صرف ایک کتاب تھی جس کا حرف حرف قانون بن گیا۔اُس شخص نے ہر زبان اور ہر نسل کو ایک روحانی تشخص سے نوازا۔پھر لکھتا ہے : "محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک فلسفہ دان، خطیب، پیغمبر، قانون دان، جنگجو، افکار پر فتح پانے والا ، عقلی تعلیمات کی تجدید کرنے والا، بیسیوں ظاہری حکومتوں اور ایک روحانی حکومت کو قائم کرنے والا شخص تھا۔انسانی عظمت کو پر کھنے کا کوئی بھی معیار مقرر کر لیں، کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑھ کر کبھی کوئی عظیم شخص پیدا ہوا؟“ (History of Turkey by A۔De Lamartine, New York: D۔Appleton and Company, 346 & 348 Broadway, 1855۔vol۔1 pp۔154-155) ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے احمدی وکلاء کی مساعی۔۔۔۔دو ہفتے پہلے کے 21 ستمبر کے خطبہ میں ہمیں نے وکلاء کے بارے میں بھی ذکر کیا تھا کہ دنیا کے مسلمان وکلاء ا کٹھے ہوں لیکن مسلمان تو پتہ نہیں اکٹھے ہوتے ہیں کہ نہیں، ہمارے احمدی وکلاء نے اس بارہ میں پاکستان میں بھی کچھ کام شروع کیا ہے کہ مذہبی جذبات کا خیال اور آزادی رائے کی حدود کے بارے میں کیا کیا جا سکتا ہے، کس حد تک اُن کو محدود کیا جا سکتا ہے۔تو بہر حال انہوں نے اس بارے میں کچھ باتیں اکٹھی کی ہیں، کچھ پوائنٹس بنائے ہیں۔اور مختلف ملکوں کی عدالتوں کے جو فیصلے ہیں اور جوان کے قانون ہیں، اسی طرح جو بین الاقوامی قانون ہے، اُس کو بھی سامنے رکھ کر کچھ سوال اُٹھائے ہیں، وہ یہاں بھی بھجوائے تھے جو میں نے مختلف ملکوں میں احمدی وکلاء کو بھجوائے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں ہمارے احمدی وکیل جنہوں نے پہلے یہ توجہ دلائی تھی ، انہوں نے ہی بتایا کہ دوسرے مسلمان وکلاء کے ساتھ وہاں بیٹھے ہوئے تھے تو اُن سب وکلاء نے پاکستان میں انہیں یہ کہا کہ اگر یہ کام منظم طور پر کوئی کر سکتا ہے تو جماعت احمدیہ کر سکتی ہے۔اس لئے تم لوگ اس سوال کو دنیا میں اُٹھاؤ۔بہر حال یہ میں نے دنیا کے مختلف احمدی وکلاء کو بھجوایا ہے کہ اس پر غور کریں اور بتائیں کہ اس میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔اس بارے میں ان کو چاہئے کہ جلد تر غور کریں اور جو بھی رائے بنے وہ مجھے بھجوائیں تا کہ پھر دنیا کے مختلف وکلاء کی جو رائے آئیں، اُن کا آپس میں ایکسچینچ (Exchange) بھی ہواور پھر جو رائے قائم ہو اس کے مطابق اگر کوئی عملی کاروائی کرنی ہوتو کی جا سکے۔اللہ تعالیٰ ان سب احمدی