ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 24 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 24

24 ایک روح فرسا واقعہ جدی خاندان کی طرف سے یہ بد زبانیاں پورے زوروں پر تھیں کہ ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں روتا چلاتا آیا۔حضور نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا کسی فوت شدہ کی خبر آئی ہے؟ اس نے کہا حضور ! اس سے بھی بڑھ کر۔چنانچہ اس نے بتایا کہ میں ان عدوان دین کے پاس تھا کہ ان میں سے ایک بد بخت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں وہ گندے الفاظ استعمال کئے کہ ایسے کلمات کسی کافر سے بھی نہیں سنے گئے۔یہی نہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کی شان اقدس میں بھی فتیح الفاظ کہے اور قرآن مجید کو نہایت بے دردی سے اپنے پاؤں تلے روند کر بے حرمتی کی۔اس پر حضور نے اسے فرمایا کہ میں نے پہلے بھی ان کے پاس بیٹھنے سے منع کیا تھا۔پس خدا سے ڈرو اور تو بہ کرو۔( خلاصه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 568) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی حرکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔" انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں خدا اور اس کے رسول کو گالیاں دیں ہیں۔خدا کے وجود سے انکار کیا ہے۔میں نے اس کتاب کو دیکھا ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسی گالیاں ہیں جن سے مومنوں کے دل پھٹ جائیں۔" خلاصه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 566-569) نشان نمائی کا مطالبہ اور حضرت مسیح موعود کی خدا کے حضور دعا جب ان رشتہ داروں کی خدا نا ترسی کی انتہا یہ ہوئی کہ ان کی شوخی اور بد زبانی کا حلقہ پرائیویٹ مجالس سے نکل کر پبلک کے اخبارات تک وسیع ہو گیا اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر نشان نمائی کے لئے لیکھرام کو بھی قادیان لے آئے اور اگست 1888ء میں اخبار " چشمہ نور امرتسر " سے آپ کے خلاف ایک انتہائی دل آزار اور زہریلا خط بھی شائع کیا جس میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے خلاف گالیاں دی ہیں اور خدا کی ہستی کے ثبوت میں نہایت بے باکی کے ساتھ نشان کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم صرف اسی نشان کو نشان قرار دیں گے جو اللہ تعالیٰ ان کی ذات ( جدی خاندان ) کے متعلق ظاہر کرے گا۔اسلام کے خلاف اپنے رشتہ داروں کی یہ منظم مخالفت دیکھ کر حضور کو شدید تکلیف پہنچی۔اشتہار کے ایک ایک لفظ سے شرارت ٹپکتی تھی اور مضمون اتنا گندہ تھا کہ آسمان پھٹ جاتا تو بعید نہ تھا اور جسے اسلام کا کوئی ادنی ہمدرد بھی پڑھتا تو قطعا برداشت نہ کر سکتا۔پھر آپ جو عظیم ترین عاشق رسول تھے وہ کیونکر برداشت کر سکتے تھے۔چنانچہ جو نہی حضور نے یہ اشتہار دیکھا آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔آپ نے دروازہ بند کر لیا اور آہ و بکا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے اور یہ پر زور دعا کی کہ :۔"اے رب ! اے رب ! اپنے بندے کی نصرت فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل ورسوا کر دے۔اے میرے رب !