ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 436 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 436

436 یہ کہتے ہیں کہ "پیغمبر اسلام کی صداقت کا یہی بڑا ثبوت ہے کہ جو آپ کو سب سے زیادہ جانتے تھے، وہی آپ پر سب سے پہلے ایمان لائے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہر گز جھوٹے مدعی نہ تھے۔۔۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام میں بڑی خوبیاں اور باعظمت صفات موجود ہیں۔پیغمبر اسلام نے ایک ایسی سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس میں ظلم اور سفا کی کا خاتمہ کیا گیا۔" (The Outline of History by H۔G۔Wells, part II) پھر دی لیسی اولیرے (De Lacy Oleary) اپنی کتاب اسلام ایٹ دی کراس روڈز Islam) at the Cross roads میں لکھتا ہے کہ : تاریخ نے اس بات کو کھول کر رکھ دیا ہے کہ شدت پسند مسلمانوں کا دنیا پر فتح پالینا اور تلوار کی نوک پر مقبوضہ اقوام میں اسلام کو نافذ کر دینا تاریخ دانوں کے بیان کردہ قصوں میں سے فضول ترین اور عجیب ترین قصہ ہے۔(Islam at the Cross Roads by De Lacy O'Leary, London 1923 p۔8) یعنی یہ جو تاریخ دان لکھتے ہیں ناں کہ تلوار کی نوک پر فتح پائی۔کہتا ہے یہ قصے فضول ترین قصے ہیں۔پھر مہاتما گاندھی ایک جریدہ young India میں لکھتے ہیں کہ: میں اُس شخص کی زندگی کے بارہ میں سب کچھ جاننا چاہتا تھا جس نے بغیر کسی اختلاف کے لاکھوں پر حکومت کی۔اُس کی زندگی کا مطالعہ کر کے میرا اس بات پر پہلے سے بھی زیادہ پختہ یقین ہو گیا کہ اسلام نے اُس زمانے میں تلوار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بنائی بلکہ اس پیغمبر کی سادگی ، اپنے کام میں مگن رہنے کی عادت، انتہائی باریکیوں کے ساتھ اپنے عہدوں کو پورا کرنا اور اپنے دوستوں اور پیروکاروں کے ساتھ انتہائی عقیدت رکھنا، بیباک و بے خوف ہونا اور خدا کی ذات اور اپنے مشن پر کامل یقین ہونا ، اُس کی یہی باتیں تھیں جنہوں نے ہر مشکل پر قابو پایا اور جو سب کو ساتھ لے کر چلیں۔جب میں نے اس پیغمبر کی سیرت کے متعلق لکھی جانے والی کتاب کی دوسری جلد بھی ختم کر لی تو مجھ پر اس کتاب ( سیرت کے بارے میں جو بھی کتاب پڑھ رہے تھے ) کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اداسی طاری ہو گئی۔1924 ,"Mahatma Gandhi, Statement published in "Young India) پھر مشہور عیسائی مورخ Reginald Bosworth Smith لکھتا ہے کہ ” مذہب اور حکومت کے رہنما اور گورنر کی حیثیت سے پوپ اور قیصر کی دو شخصیتیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ایک وجود میں جمع تھیں۔آپ پوپ تھے مگر پوپ کی طرح ظاہر داریوں سے پاک۔آپ قیصر تھے مگر قیصر کے جاہ وحشمت سے بے نیاز۔اگر دنیا میں کسی شخص کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اُس نے با قاعدہ فوج کے بغیر محل شاہی کے بغیر اور لگان کی وصولی کے بغیر صرف خدا کے نام پر دنیا میں امن اور انتظام قائم رکھا تو وہ صرف حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔آپ کو اس ساز وسامان کے بغیر ہی سب طاقتیں حاصل تھیں، پھر ایک فرینچ فلاسفر لا مارٹین (Lamartine) اپنی کتاب ' ہسٹری آف ٹرکی ( History of