ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 433 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 433

433 نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہمارے دل میں اور حقیقی مسلمان کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کا اسوہ حسنہ کس قدر خوبصورت ہے اور اس میں کیا حسن ہے ؟ ایک حقیقی مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق اور محبت ہے، اس کا یہ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔حضرت حسان " کا آنحضور سے محبت و عشق کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق کا اظہار آج سے چودہ سو سال پہلے صرف حسان بن ثابت نے ہی اپنے اس شعر میں نہیں کیا تھا کہ ؎ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 583) یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا آج تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہو گئی۔اب تیری وفات کے بعد کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔میں تو تیری موت سے ہی ڈرتا تھا۔حضرت مسیح موعود کا حضرت محمد سے عشق و محبت یہ شعر آپ کی وفات پر حسان بن ثابت نے کہا تھا لیکن ہم میں اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت، ایک گہری عشق و محبت پیدا کی ہے۔ہمارے دل میں اس عشق و محبت کی جوت جگائی ہے۔آپ ایک جگہ اس عشق و محبت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔آپ کا جو بڑا المباعربی قصیدہ ہے، اُس کے کچھ شعر ہیں کہ : قَوْمٌ رَأَوْكَ وَأُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذَالِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي کہ ایک قوم نے تجھے دیکھا ہے اور ایک امت نے خبر سنی ہے، اس بدر کی جس نے مجھے اپنا عاشق بنایا۔يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْحَمَالِ صَبَابَةٌ وَتَأَلَّمًا مِّنْ لَوْعَةِ الْهِجْرَانِ وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اُٹھانے سے بھی روتے ہیں۔وَأَرَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرَ كُرْبَةً وَأَرَى الْغُرُوْبَ تُسِيْلُهَا الْعَيْنَانِ اور میں دیکھتا ہوں کہ دل بیقراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔یہ قصیدہ بہت ساروں کو بلکہ اب تو ہمارے بچوں کو بھی یاد ہے۔اور اس لمبے قصیدہ کا آخری شعر یہ ہے کہ: جسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ کہ میرا جسم تو شوق غالب سے تیری طرف اُڑنا چاہتا ہے۔اے کاش میرے اندر اڑنے کی طاقت ہوتی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 590 اور 594)