ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 432 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 432

432 اور کس طرح ہونی چاہئیں۔یہ سارے حصے اکٹھے کر کے ایک پمفلٹ کی شکل میں چھاپ کر یہاں بھی اور دنیا میں بھی تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔اس پر بھی فوری کام ہونا چاہئے۔یہ دو تین ورقہ پیغام بنے گا، زیادہ سے زیادہ چار پانچ ورقے بن جائیں گے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انبیاء کا ذکر فرماتے ہوئے یہ مثال دی ہے کہ اگر کسی حکومت کے نام پر کوئی جھوٹا قانون بنا کر اس کی طرف سے پھیلائے اور اپنے آپ کو حکومت کا کارندہ ثابت کرے یا کرنے کی کوشش کرے تو حکومت کی مشینری حرکت میں آتی ہے اور ایسے شخص یا گروہ کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف غلط باتوں کے منسوب ہونے کو برداشت کرے اور کھلی چھٹی دے دے۔(ماخوذ از تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 257-258)۔آپ نے ہ بھی فرمایا کہ ایسی کا نفرنسیں ہونی چاہئیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہب کے بارے میں خوبیاں بھی بیان کریں۔(ماخوذ از خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 30 ، ماخوذ از تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 279) اور اس وقت اگر دیکھا جائے، تو عملی رنگ میں اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے اور تعداد کے لحاظ سے یہ بہر حال دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔اس لئے دنیا کے دوسرے مذاہب کو بہر حال مسلمانوں کی عزت کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و احترام کا جو حق ہے وہ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔نہیں تو دنیا میں فساد اور بے امنی پیدا ہوگی۔اسلام تمام انبیاء کی عزت کی تعلیم دیتا ہے پس جب ہم دنیا کے مذاہب کا احترام و عزت کرتے ہیں، اُن کے بزرگوں اور انبیاء کو خدا تعالیٰ کا فرستادہ سمجھتے ہیں تو صرف اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی۔مخالفین اسلام باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں، بیہودہ قسم کی تصویریں بھی بناتے ہیں، مگر ہم کسی مذہب کے نبی اور بزرگ کو جواب میں غلط الفاظ سے نہیں پکارتے یا اُن کا استہزاء نہیں کرتے۔اس کے باوجود مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ امن بر باد کرنے والے ہیں۔پہلے خود یہ لوگ امن بر باد کرنے والی حرکتیں کرتے ہیں، جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جذبات بھڑک جائیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو مسلمان ہیں ہی تشدد پسند ، اس لئے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کرو۔اسلامی تعلیم کی تشہیر ایک احمدی کی ذمہ داری ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ مخالفین اسلام کو یہ سب کچھ کرنے کی جرات اس لئے ہے کہ مسلمان ایک ہو کر نہیں رہتے لیکن ہم احمدی مسلمان جن کو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی موعود کے ہاتھ پر جمع کر دیا ہے، ہمارا بہر حال کام ہے کہ دنیا کو ہدایت کے راستے دکھائیں، امن اور سلامتی کے طریق بتائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے اس پیغام کو جو میں نے پڑھا ہے، اس کی خوب تشہیر کریں تا کہ دنیا کو حقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چل سکے۔دُنیا داروں کو یہ پتہ ہی