ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 434
434 آنحضور کی سیرت کے پہلولوگوں کے سامنے پیش کریں پس ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے یہ سبق سکھائے گئے ہیں اور یہ دنیا دار کہتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے؟ ہلکا پھلکا مذاق ہے۔جب اخلاق اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اخلاق کے معیار بجائے اونچے جانے کے پستیوں کو چھونے لگیں تو تبھی دنیا کے امن بھی برباد ہوتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے، ہمارا کام ہے کہ زیادہ سے زیادہ کوشش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔اس کے لئے مختصر اور بڑی جامع کتاب Life of Muhammad یا دیباچہ تفسیر القرآن کا سیرت والا حصہ ہے، اس کو ہر احمدی کو پڑھنا چاہئے۔اس میں سیرت کے قریباً تمام پہلو بیان ہو گئے ہیں یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ضروری پہلو بیان ہو گئے ہیں۔اور پھر اپنے ذوق اور شوق اور علمی قابلیت کے لحاظ سے دوسری سیرت کی کتابیں بھی پڑھیں اور دنیا کو مختلف طریقوں سے، رابطوں سے مضامین سے، پمفلٹ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان سے آگاہ کریں۔اللہ تعالیٰ اس اہم کام اور فریضے کو سرانجام دینے کی ہر احمدی کو تو فیق عطا فرمائے اور دنیا کو مقتل عطا فرمائے کہ اس کا ایک عقلمند طبقہ خود اس قسم کے بیہودہ اور ظالمانہ مذاق کرنے والوں یا دشمنیوں کا اظہار کرنے والوں کا رڈ کرے تا کہ دنیا بدامنی سے بھی بچ سکے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی بچ سکے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔" الفضل انٹر نیشنل 19 اکتوبر 2012ء) خطبہ جمعہ 5 اکتوبر 2012ء امریکن عیسائی پادری نے جو بے ہودہ اور لغو فلم اسلام کے خلاف تیار کی۔اس پر ہمارے پیارے حضور ایدہ اللہ نے اسلام کا جو دفاع فرمایا یہ اس کا مسلسل تیسرا خطبہ ہے۔جس میں حضور نے ایک نیا انداز اپناتے ہوئے 24 مستشرقین کے ایسے حوالہ جات پیش کئے جو انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت حسنہ سے متاثر ہوکر بیان کئے ہیں۔یہاں ان میں سے چند ایک حضور ہی کے الفاظ میں پیش کئے جار ہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔۔۔۔آج کل اسلام کے مخالفین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ لوگ یا تو انصاف سے خالی دل لئے ہوئے ہیں یا آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کو جانتے ہی نہیں اور اس کے لئے کوشش کرنی بھی نہیں چاہتے۔پس دنیا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے آگاہی دینا بھی ہمارا کام ہے۔اس کے لئے ہر قسم کا ذریعہ ہمیں استعمال کرنا چاہئے۔اس کے بارے میں پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں۔بعض لوگوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے یا دنیا میں ڈوب کر ایسے بن جاتے ہیں کہ اُن پر دنیا داروں کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔دنیا دار اگر کوئی بات کہہ دے تو ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں یا اُن پر اپنے لوگوں کی باتوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ایک بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک مسلمان سے سنیں۔اگر اُن کے اپنے لوگ کہیں تو بعض دفعہ اُس پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے اُن کے اپنے لوگوں کے مشہور لوگوں کے جو کتابیں لکھنے