ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 431
431 جیسا کہ میں نے کہا کہ میرا گزشتہ خطبہ ہر زبان میں ترجمہ کر کے ایک چھوٹے سے پمفلٹ کی صورت میں بنا کر ایک مہم کی صورت میں اُس طرح تقسیم کر دیں جس طرح پہلے امن کے حوالے سے لیف لیٹنگ ہوئی تھی۔لیکن اس کام کو زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے۔ہفتہ دس دن کے اندر اندر یہ کام ہو سکتا ہے اور کرنا چاہئے۔بڑے ممالک میں اس کی اشاعت کا کام بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے۔یہ لوگ تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے اور نہ آئیں گے۔عمومی طور پر مسلمان جو رد عمل دکھا رہے ہیں، اس کو لے کر لگتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے دلوں کو مزید زخمی کرنے کے درپے ہیں۔اپنی خبیثا نہ حرکتوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیلاتے چلے جارہے ہیں۔اب دو دن پہلے پہین کے کسی اخبار نے بھی یہ خاکے بنائے تھے اور شائع کئے ہیں اور یہ کہا ہے کہ یہ تو ذاق ہے اور یہ مسلمانوں کے رد عمل کا جواب بھی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے اور کم از کم شرفاء اور پڑھے لکھے لوگوں کو بتانے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ غلط طریق دنیا کا امن برباد کر رہا ہے، تا کہ جس حد تک ممکن ہو ان کے ظالمانہ رویہ کی حقیقت سے ہم دنیا کو آگاہ کر سکیں۔ملکہ کی ڈائمنڈ جوبلی پر تحفہ قیصریہ دوبارہ بھجوائی گئی یہاں یو کے میں اور کامن ویلتھ ملکوں میں کوئین کی ڈائمنڈ جوبلی گزشتہ دنوں منائی گئی تھی۔اس حوالے سے تقریباً سارا سال ہی شور پڑا رہا ہے اور پڑ رہا ہے یا اس کا ذکر چل رہا ہے۔اب بھی اس طرف توجہ ہے۔ملکہ وکٹوریہ کی جب ڈائمنڈ جوبلی ہوئی تھی تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحفہ قیصریہ کے نام سے کتاب لکھ کر ملکہ کو بھجوائی تھی جس میں جہاں ملکہ کی انصاف پسند حکومت کی تعریف کی تھی وہاں اسلام کا پیغام بھی پہنچایا تھا اور دنیا میں امن کے قیام اور مختلف مذاہب کے آپس کے تعلقات اور مذہبی بزرگوں اور انبیاء کی عزت و احترام کی طرف بھی توجہ دلا ئی تھی۔اور یہ بھی تفصیل سے بتایا تھا کہ امن کے طریق کیا ہونے چاہئیں۔اب جب ملکہ الزبتھ کی ڈائمنڈ جو بلی ہوئی ہے تو تحفہ قیصریہ کا ترجمہ پرنٹ کر کے خوبصورت چلد کے ساتھ ملکہ کو بھجوایا گیا تھا۔ملکہ کا جومتعلقہ شعبہ ہے جس کو یہ کتاب تحفہ کے طور پر جا کے دی گئی تھی، اور ساتھ میرا خط بھی تھا ، اُن کی طرف سے مجھے شکریہ کا جواب بھی آیا ہے اور یہ بھی کہ ملکہ کی کتابوں کی جو collection ہے وہاں رکھ دی گئی ہے اور ملکہ اس کو پڑھے گی۔بہر حال پڑھتی ہے یا نہیں لیکن ہماری جو ذمہ داری تھی ہم نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔امن اور احترام مذہب پر ایک لیف لیٹ تیار کیا جائے اس وقت بھی دنیا کی بدامنی کے وہ حالات ہیں جو اُس زمانے میں بھی تھے بلکہ بعض لحاظ سے بڑھ رہے ہیں اور یہ لوگ اسلام پر حملہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ ، آپ کا استہزاء کرتے چلے جا رہے ہیں اور بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کی تشہیر کی آج بھی بہت ضرورت ہے۔اس لئے اس میں امن اور مذہب کے احترام کا جو حصہ ہے اور پھر یہ بھی دیا ہوا ہے کہ کانفرنسیں بھی منعقد ہونی چاہئیں