ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 429 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 429

429 نے اُسے کہا کہ میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تمہارے باپ کے خلاف اگر کوئی بات کرے تو سنو گے؟ ہاں یا نہ میں جواب تو اُس نے نہیں دیا لیکن اس بات پر بہر حال چپ کر گیا۔اس نمائندے نے تو شاید اس بارے میں میڈیا میں خبر نہیں دی۔لیکن میرے اس فقرہ کو کہ تمہارے باپ کو کوئی گالی دے تو رد عمل دکھاؤ گے کہ نہیں؟ دوسرے میڈیا نے بہت ساری جگہوں پر اُٹھایا۔ویب سائٹ پر بھی ڈالا ہے۔آنحضور پر درود بھیجنے کی طرف صرف جماعت احمدیہ نے توجہ دلائی بہر حال انٹرنیٹ پر اور بعض اخباروں کی ویب سائٹ پر مختلف تبصرہ کرنے والوں نے اور ایک پاکستانی انگلش اخبار نے خطبہ کے حوالے سے، پریس میٹنگ کے حوالے سے جماعت احمدیہ مسلمہ کے مؤقف کو دنیا پر خوب ظاہر کیا کیونکہ اکثر نے اس بات پر بڑے تعریفی کلمات لکھے تھے۔لیکن انٹرنیٹ پر بعض تبصرے ایسے بھی تھے کہ مرزا مسرور احمد نے کونسی ایسی خاص بات کر دی ہے۔بعضوں نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے جو بات کہی ہے ہر عقل مند انسان یہی بات کرتا ہے۔لیکن ایک احمدی نے مجھے لکھا کہ میں نے سارے تبصرے سنے ، ساری خبریں دیکھیں۔علماء کے بھی اور ان کے لیڈروں کے بھی ساروں کے بیانات دیکھے۔بہت باتیں کی ہیں لیکن کسی نے یہ توجہ نہیں دلائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجوں تو یہ توجہ بھی صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے ہی دلائی گئی ہے کہ اس کا ایک رد عمل یہ بھی ہونا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔بعض نے یہ بھی لکھا کہ ان لوگوں نے ہی صحیح اسلامی رد عمل دکھایا ہے جن کو تم غیر مسلم کہتے ہو۔بہر حال اس کی خوب تشہیر ہوئی ہے۔اس طرح دنیا کے سامنے ایک حقیقی مسلمان کا حقیقی رد عمل بھی آگیا۔اسلام کی حقیقی تعلیم جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے، اُس کا بھی دنیا کو پتہ چل گیا۔دنیا کو اور عالم اسلام کو یہ پیغام بھی مل گیا کہ ایک حقیقی مسلمان کا صحیح رد عمل کیا ہوتا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔۔تمام جماعتیں فوری طور پر اس خطبہ کو اپنی زبانوں میں شائع کریں جہاں تک مرکز کی طرف سے اس بارے میں کوشش کی ہدایت اور طریقہ کار کا سوال ہے میں نے خطبہ کے حوالے سے اس کی اشاعت کی ہدایت تو کر دی ہے۔بہر حال یہ ہدایت اور طریق جو بھی دفتر کی طرف سے جماعتوں کو اور افراد کو ان کی جماعتوں کی طرف سے پہنچےگا وہ تو ہوسکتا ہے کہ چاہے چند دن ہی سہی وہ کچھ وقت لے لے۔لیکن تمام احمدی جو میری بات سن رہے ہیں، اُن کو چاہئے کہ اس موقع سے جو اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمایا ہے ایک تو جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں کہا تھا، اپنے عمل سے دنیا کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کریں۔لیکن ساتھ ہی متعلقہ مرکزی دفتر بھی جیسا کہ میں نے کہا اور جماعتیں بھی فوری توجہ دیتے ہوئے خطبہ کا اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کر کے وسیع طور پر شائع کریں اور پریس کے حوالے سے بھی ذکر کریں اور ہر ذی شعور تک اسلامی مؤقف کو پہنچائیں۔مختصر سا وہ خطبہ تھا۔نیز اس میں یہ بھی درج ہو کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسین پہلوؤں کو دیکھنا ہے تو حقائق اور تاریخ کی