ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 428 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 428

428 کسی احمدی کو نہیں دیکھو گے کہ اس قسم کے فساد اور مفسدانہ رد عمل کا حصہ ہوں۔خبریں پڑھنے والے نے میرا یہ جواب دکھا کر پھر آگے تبصرہ کیا کہ یہ جماعت مسلمانوں کی اقلیتی جماعت ہے اور ان کے ساتھ بھی مسلمانوں کی طرف سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔بہر حال دیکھتے ہیں کہ یہ پیغام جوان کے خلیفہ نے دیا ہے، اس کی آواز اور پیغام کا احمدی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر بھی کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس نے وہاں دوسرے مسلمانوں کی فوٹیج بھی دکھائی جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے۔مولویوں کو جلوس نکالتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا بہر حال اس ذریعہ سے اسلام کا حقیقی پیغام نیوزی لینڈ کے ملک میں بھی اور سیٹلائٹ کے ذریعہ اردگرد کے ملکوں میں بھی اور اُن کی ویب سائٹ کے ذریعہ سے دنیا کے بہت سے حصوں میں پہنچ گیا۔اگر ہم کوشش بھی کرتے تو احمدیت کا تعارف اور اسلام کا حقیقی پیغام اس طرح نہ پہنچتا۔نیوزی لینڈ جماعت کی ذمہ داریاں اب نیوزی لینڈ جماعت کو چاہئے کہ اس حوالے سے اسلام اور احمدیت کا تعارف بھرا پروگرام ملک کے ہر حصہ میں پہنچانے کی کوشش کریں۔اسی طرح نیوزی لینڈ کے اردگرد کے جو ممالک ہیں ، اُن میں بھی یہ سنا گیا ہوگا، انہیں بھی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے ان ممالک میں اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچانے کے لئے بھر پور پروگرام بنا ئیں۔مغربی نامہ نگاروں کے نزدیک یہ ہلکا سا مذاق ہے اس پر حضور کا ردعمل نیوز نائٹ جو یہاں کا چینل ہے، اُس کا نمائندہ کہنے لگا کہ میں نے یہ فلم دیکھی ہے۔اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں جس پر اتنازیادہ شور مچایا جائے اور مسلمان اس طرح رد عمل دکھائیں۔اور تم نے بھی بڑی تفصیل سے اس پر خطبہ دے دیا ہے اور بعض جگہ بڑے سخت الفاظ میں اس کو ر ڈ کیا ہے۔یہ تو ہلکا سا مذاق تھا۔انا للہ۔یہ تو ان لوگوں کے اخلاقی معیار کی حالت ہے۔میں نے اُسے کہا کہ پتہ نہیں تم نے کس طرح دیکھا اور تمہارا کیا معیار ہے؟ تم اُس مقام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں کی نظر میں ہے، اُن کے دل میں ہے اور اُس محبت کو جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسلمان کے دل میں ہے تم نہیں سمجھ سکتے۔میں نے اُسے بتایا کہ میں نے فلم تو نہیں دیکھی لیکن ایک دو باتیں جس دیکھنے والے نے مجھے بتائی ہیں، وہ نا قابل برداشت ہیں اور تم کہتے ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔یہ باتیں سن کر تو میں کبھی فلم دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، ان کو سن کر ہی خون کھولتا ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تمہارے باپ کو اگر کوئی گالی دے، برا بھلا کہے، بیہودہ باتیں کہے تو اُس کے متعلق تمہارا رد عمل کیا ہوگا؟ تم دکھاؤ گے رد عمل؟۔یہ بتاؤ گے کہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو ایک مسلمان کی نظر میں اس سے بہت بلند ہے، اس جگہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔دوبارہ پھر وہ فلم کے بارے میں بات کرنے لگا تو پھر میں