ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 427 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 427

427 تھے جن میں نیوز نائٹ جو بی بی سی کے زیر انتظام ہے، اسی طرح بی بی سی کا نمائندہ، نیوزی لینڈ نیشنل ٹیلیویژن کا نمائندہ، فرانس کے ٹیلیویژن کا نمائندہ اور بہت سارے دوسرے نمائندے شامل تھے۔نیوزی لینڈ کا نمائندہ جو میرے دائیں طرف بیٹھا تھا، اس کو پہلے موقع مل گیا۔اُس نے یہی سوال کیا کہ آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔میں نے اُس کو بتایا کہ پیغام تو تم سُن چکے ہو۔وہ خطبہ کی ریکارڈنگ سن رہے تھے اور ترجمہ بھی سن رہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں میں بیان کر چکا ہوں کہ آپ کا بہت بلند مقام ہے۔آنحضور کا اُسوہ ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے۔مسلمانوں کا رد عمل جو غم وغصہ کا ہے وہ ایک لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ پیدا ہونا چاہئے تھا ، گو بعض جگہ اس کا اظہار غلط طور پر ہو رہا ہے۔ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے دنیا دار کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے دنیا دار کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ کس حد تک اور کس طرح ہمیں ان باتوں سے صدمہ پہنچا ہے۔ایسی حرکتیں دنیا کا امن برباد کرتی ہیں۔نیوزی لینڈ کے ایک نمائندہ کا اس بات پر زور تھا کہ تم نے بڑے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔یہ تو بڑے سخت الفاظ ہیں اور تم بھی اُن لوگوں میں شامل ہو گئے ہو۔الفاظ تو یہ نہیں تھے لیکن ٹون ( Tone) سے یہی مطلب لگ رہا تھا کیونکہ وہ بار بار اس سوال کو دُہرا رہا تھا۔اُس کو میں نے یہ کہا کہ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے بارے میں ایسی باتیں کریں ، اُن کا استہزاء کرنے کی کوشش کریں اور کرتے چلے جائیں اور کسی طرح سمجھانے سے باز نہ آئیں اور تمسخر اور ہنسی کا نشانہ بناتے رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی بھی ایک تقدیر ہے وہ چلتی ہے اور عذاب بھی آ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پکڑتا بھی ہے۔خیر وہ چپ کر گیا۔لیکن لگتا تھا کہ اس بات سے کچھ ڈرا بھی ہوا ہے، کچھ خوفزدہ بھی لگ رہا تھا۔اُس نے نیوزی لینڈ نیشنل ٹیلیویژن چینل کو جو اپنی خبریں بھیجی ہیں ان خبروں میں وہ وہاں نشر ہوئی اور اس طرح جماعت کے حوالے سے پہلی دفعہ وہاں کے نیشنل ٹیلیویژن پر کوئی خبر نشر ہوئی ہے۔وہاں کی جماعت بھی اس لحاظ سے خوش تھی کہ خطبہ کے حوالے سے بھی اور میرے انٹرویو کے حوالے سے بھی وہاں ہمارا تعارف ہو گیا۔خطبہ کے انگریزی مترجم کے یہ الفاظ کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے، یہ فقرہ بھی انہوں نے اپنی خبروں میں سنایا جور یکارڈ کیا ہوا تھا۔لیکن اس میں یہ شرافت تھی جو بعض دفعہ غیر مسلم نمائندوں میں نہیں ہوتی یا وہ نہیں دکھاتے یا اللہ تعالیٰ نے اُس کے دل میں ڈالا کہ اس فقرہ کا جو بغیر سیاق وسباق کے منفی رد عمل ہو سکتا تھا۔احمدی کبھی فساد اور مفسدانہ عمل کا حصہ نہیں ہوتا اُس کو زائل کرنے کے لئے مجھے ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے دکھایا اور میرے الفاظ میں یہ بھی دکھا دیا۔وہاں اس نے میرے الفاظ دہرا دیئے جو میں خود بھی بول رہا تھا کہ ہم شدت پسند مظاہرے اور توڑ پھوڑ پسند نہیں کرتے اور تم کبھی