ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 426
426 پھیر نے والا ہونا چاہئے نہ یہ کہ اس قسم کی بیہودہ گوئیوں کی طرف وہ توجہ دیں۔لیکن بدقسمتی سے اس کے الٹ ہو رہا ہے۔حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔زمانے کا امام تنبیہ کر چکا ہے کھل کر بتا چکا ہے کہ دنیا نے اگر اُس کی آواز پر کان نہ دھرے تو ان کا ہر قدم دنیا کو تباہی کی طرف لے جانے والا بنائے گا۔خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2012 ء حضور نے اگلے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔الفضل انٹر نیشنل 12 اکتوبر 2012ء) " گزشتہ جمعہ کو جب میں یہاں مسجد میں جمعہ پڑھانے آیا تھا تو کار سے اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک بڑی تعدا د اخباری نمائندوں کی سامنے کھڑی تھی۔بہر حال میرے پوچھنے پر امیر صاحب نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں امریکہ میں جو انتہائی دلآزار فلم بنائی گئی ہے اُس پر مسلمانوں میں جور د عمل ہورہا ہے ،اس سلسلہ میں یہ لوگ دیکھنے آئے ہیں کہ احمدیوں کا رد عمل کیا ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔انہیں کہیں کہ میں نے اسی موضوع پر خطبہ دینا ہے اور وہیں جو بھی احمدیوں کا رد عمل ہوگا بیان کروں گا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کے ہی کام ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں میڈیا کو کھینچ کر یہاں لایا اور پھر میرے دل میں بھی ڈالا کہ اس موضوع پر کچھ کہوں۔پہلے میرا ارادہ کچھ اور کہنے کا تھا۔لیکن ایک دن پہلے توجہ اس طرف پھری کہ اسی موضوع پر کچھ کہنا چاہئے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔وہ جس طرح چاہتا ہے کرواتا ہے اور بعد کے حالات نے ثابت بھی کیا کہ اس موضوع پر کہنے میں اللہ تعالیٰ کی تائید شامل تھی۔مختصر وقت میں مختصر باتیں کی جاسکتی ہیں لیکن جو بھی کہی گئیں اُن کے خلاصے کو یا جو پیغام میں دینا چاہتا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دنیائے احمدیت کے علاوہ غیروں میں بھی کافی وسیع طور پر پہنچا دیا۔بہر حال جمعہ کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلا ہوں تو امیر صاحب نے کہا کہ میڈیا والے دو تین منٹ آپ سے براہ راست کچھ بات کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔میں نے اُن کو کہا کہ خطبہ میں ساری باتیں بیان کر چکا ہوں۔کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میڈیا کے لوگ اوپر کھڑے تھے ، کیمرے تصویریں بھی لے رہے تھے، ریکارڈنگ بھی کر رہے تھے، ترجمہ سن بھی رہے تھے تو پیغام تو ان کو مل گیا ہے۔پھر اب یہ مزید اور کیا چاہتے ہیں؟ بہر حال کیونکہ انہوں نے اُن کو یہ کہہ کر اندر کمرے میں بٹھا دیا تھا کہ میں آؤں گا تو اس بات پر میں نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے، دیکھ لیتے ہیں۔آنحضور کی عزت اور ناموس کی خاطر ہر جگہ بات ہوسکتی ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کی خاطر اور باتیں بھی کرنی پڑیں تو ہم کریں گے اور آب کے مقام کے حوالے سے نیز اسلام کی تعلیم کے حوالے سے اگر اس انٹرویو کی وجہ سے کوئی بہتر پیغام دنیا کو پہنچ سکتا ہے تو اچھی بات ہے، پھرمل لیتا ہوں۔جب میں کمرے میں گیا تو علاوہ اخباری نمائندوں کے ٹی وی چینلز کے نمائندے بھی