ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 425 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 425

425 بارے میں آتا ہے کہ عرب کی خوبصورت عورتوں میں سے تھیں۔وہ جب مدینہ آئی ہیں تو عورتوں نے انہیں وہاں جا کر دیکھا تو سب نے تعریف کی کہ ایسی خوبصورت عورت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی۔اس کے باپ کی خواہش پر آپ نے اُس سے پانچ صد در ہم حق مہر پر نکاح کر لیا۔جب آپ اُس کے پاس گئے تو اُس نے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے ایک بہت عظیم پناہ گاہ کی پناہ طلب کی ہے اور باہر آ گئے اور اپنے ایک صحابی ابو اسید کو فرمایا کہ اس کو اس کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔اور پھر یہ بھی تاریخ میں ہے کہ اس شادی پر اُس کے گھر والے بڑے خوش تھے کہ ہماری بیٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی لیکن واپس آنے پر وہ سخت ناراض ہوئے اور اُسے بہت برا بھلا کہا۔(ماخوذ از الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثامن صفحه 318-319 دار احياء التراث العربي بيروت 1996) تو یہ وہ عظیم ہستی ہے جس پر گھناؤنے الزام عورت کے حوالے سے لگائے جاتے ہیں۔جس کا بیویاں کرنا بھی اس لئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے اگر بیویاں نہ ہوتیں، اولاد نہ ہوتی اور جو اولاد کی وجہ سے ابتلا آئے اور جن کا جس طرح اظہار کیا اور پھر جس طرح بیویوں سے حسن سلوک ہے ، خلق ہے، یہ کس طرح قائم ہو ، اس کے نمونے کس طرح قائم ہو کے ہمیں پتہ چلتے۔ہر عمل آپ کا خدا کی رضا کے لئے ہوتا تھا۔(ماخوذ از چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ نمبر 300 ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں الزام ہے کہ وہ بہت لاڈلی تھیں اور پھر عمر کے حساب سے بھی بڑی غلط باتیں کی جاتی ہیں۔لیکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ یہ فرماتے ہیں کہ بعض راتوں میں میں ساری رات اپنے خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔(الدر المنثور في التفسير بالماثور لامام السيوطي 7 صفحه 350 دار احياء التراث العربي بيروت 2001ء) پس جن کے دماغوں میں غلاظتیں بھری ہوئی ہوں انہوں نے یہ الزام لگانے ہیں اور لگاتے رہے ہیں، آئندہ بھی شاید وہ ایسی حرکتیں کرتے رہیں، جیسے کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے جہنم کو بھرتا رہے گا۔پس ان لوگوں کو اور ان کی حمایت کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے۔(ماخوذ از تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ نمبر 378) اس زمانے میں اُس نے اپنے مسیح و مہدی کو بھیج کر دنیا کو اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔لیکن اگر وہ استہزاء اور ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے۔دنیا کے ہر خطے پر آجکل قدرتی آفات آ رہی ہیں۔ہر طرف تباہی ہے۔امریکہ میں بھی طوفان آرہے ہیں اور پہلے سے بڑھ کر آ رہے ہیں۔معاشی بدحالی بڑھ رہی ہے۔گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آبادیوں کو پانی میں ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ان خطرات میں گھری ہوئی ہیں۔پس ان حد سے بڑھے ہوؤں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پھیرنے کی ضرورت ہے۔ان سب باتوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ