ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 421 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 421

421 ایک احمدی ( مسلمان ) کا اور حقیقی مسلمان کا یہ عمل ہے اور یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم انصاف قائم کرنے والے ہیں اُن کے ایک طبقہ کا یہ عمل ہے۔بعض رد عمل غلط ہیں لیکن معصوم نبیوں کا استہزاء بہت بڑا گناہ ہے مسلمانوں کو تو الزام دیا جاتا ہے کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔ٹھیک ہے کہ بعض رد عمل غلط ہیں۔توڑ پھوڑ کرنا ، جلاؤ گھیراؤ کرنا، معصوم لوگوں کو قتل کرنا، سفارتکاروں کی حفاظت نہ کرنا ، اُن کو قتل کرنا یامار نا یہ سب غلط ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معصوم نبیوں کا استہزاء اور دریدہ دینی میں جو بڑھنا ہے، یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے۔اب دیکھا دیکھی گزشتہ دنوں فرانس کے رسالہ کو بھی دوبارہ ابال آیا ہے۔اُس نے بھی پھر بیہودہ کارٹون شائع کئے ہیں جو پہلے سے بھی بڑھ کر بیہودہ ہیں۔یہ دنیا دار دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ یہ دنیا ہی اُن کی تباہی کا سامان ہے۔امن کے لئے دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام ضروری ہے یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ دنیا کے ایک بہت بڑے خطہ پر مسلمان حکومتیں قائم ہیں۔دنیا کا بہت سا علاقہ مسلمان کے زیر نگیں ہے۔بہت سے مسلمان ممالک کو خدا تعالیٰ نے قدرتی وسائل بھی عطا فرمائے ہیں۔مسلمان ممالک یو این او (UNO) کا حصہ بھی ہیں۔قرآنِ کریم جو مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے ماننے والے اور اس کو پڑھنے والے بھی ہیں تو پھر کیوں ہر سطح پر اس خوبصورت تعلیم کو دنیا پر ظاہر کرنے کی مسلمان حکومتوں نے کوشش نہیں کی۔کیوں نہیں یہ کرتے ؟ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کیوں دنیا کے سامنے یہ پیش نہیں کرتے کہ مذہبی جذبات سے کھیلنا اور انبیاء اللہ کی بے حرمتی کرنا یا اس کی کوشش کرنا یہ بھی جرم ہے اور بہت بڑا جرم اور گناہ ہے۔اور دنیا کے امن کے لئے ضروری ہے کہ اس کو بھی یو این او کے امن چارٹر کا حصہ بنایا جائے کہ کوئی ممبر ملک اپنے کسی شہری کو اجازت نہیں دے گا کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے۔آزادی خیال کے نام پر دنیا کا امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لیکن افسوس کہ اتنے عرصہ سے یہ سب کچھ ہورہا ہے، کبھی مسلمان ملکوں کی مشتر کہ ٹھوس کوشش نہیں ہوئی کہ تمام انبیاء ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہر نبی کی عزت و ناموس کے لئے دنیا کو آگاہ کریں اور بین الاقوامی سطح پر اس کو تسلیم کروائیں۔گو یو این او (UNO) کے باقی فیصلوں کی طرح اس پر بھی عمل نہیں ہوگا، پہلے کونسا امن چارٹر پر عمل ہو رہا ہے لیکن کم از کم ایک چیز ریکارڈ میں تو آ جائے گی۔او آئی سی (OIC)، آرگنا ئز بیشن آف اسلامک کنٹریز جو ہے، یہ قائم تو ہے لیکن ان کے ذریعہ سے کبھی کوئی ٹھوس کوشش نہیں ہوئی جس سے دنیا میں مسلمانوں کا وقار قائم ہو۔مسلمان ملکوں کے سیاستدان اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہر کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اگر نہیں خیال تو دین کی عظمت کا خیال نہیں۔اگر ہمارے لیڈروں کی طرف سے ٹھوس کوششیں ہوتیں تو عوام الناس کا یہ غلط رو عمل بھی ظاہر نہ ہوتا جو آج مثلاً پاکستان میں ہورہا ہے یا دوسرے ملکوں میں ہوا ہے۔اُن کو پتہ ہوتا کہ ہمارے لیڈر اس کام کے لئے مقرر ہیں اور وہ اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس قائم کرنے کے