ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 420
420 آزادی کے متعلق قانون کوئی آسمانی صحیفہ نہیں آزادی کے متعلق قانون کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔میں نے وہاں امریکہ میں سیاستدانوں کو تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا داروں کے بنائے ہوئے قانون میں سقم ہو سکتا ہے، غلطیاں ہوسکتی ہیں۔قانون بناتے ہوئے بعض پہلو نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں کیونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا۔لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اُس کے بنائے ہوئے قانون جو ہیں اُن میں کوئی سقم نہیں ہوتا۔پس اپنے قانون کو ایسا مکمل نہ سمجھیں کہ اس میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔آزادی اظہار کا قانون تو ہے لیکن نہ کسی ملک کے قانون میں ، نہ یواین او (UNO) کے چارٹر میں یہ قانون ہے کہ کسی شخص کو یہ آزادی نہیں ہوگی کہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرو۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ دوسرے مذہب کے بزرگوں کا استہزاء کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔اس سے نفرتوں کے لاوے ابلتے ہیں۔اس سے قوموں اور مذہبوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اگر قانون آزادی بنایا ہے تو ایک شخص کی آزادی کا قانون تو بیشک بنا ئیں لیکن دوسرے شخص کے جذبات سے کھیلنے کا قانون نہ بنائیں۔یو این او (UNO) بھی اس لئے ناکام ہو رہی ہے کہ یہ نا کام قانون بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قانون دیکھیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہو کہ اس سے معاشرے کا امن برباد ہوتا ہے۔تم بتوں کو بُرا کہو گے تو وہ نہ جانتے ہوئے تمہارے سب طاقتوں والے خدا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کریں گے جس سے تمہارے دلوں میں رنج پیدا ہوگا۔دلوں کی کد در تیں بڑھیں گی۔لڑائیاں اور جھگڑے ہوں گے۔ملک میں فساد برپا ہوگا۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو اسلام کا خدا دیتا ہے،اس دنیا کا خدا دیتا ہے، اس کا ئنات کا خدا دیتا ہے۔وہ خدا یہ تعلیم دیتا ہے جس نے کامل تعلیم کے ساتھ اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی اصلاح کے لئے اور پیار و محبت قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین کا لقب دے کر تمام مخلوق کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔پس دنیا کے پڑھے لکھے لوگ اور ارباب حکومت اور سیاستدان سوچیں کہ کیا ان چند بیہودہ لوگوں کو تختی سے نہ دیا کر آپ لوگ بھی اس مفسدہ کا حصہ تو نہیں بن رہے۔دنیا کے عوام الناس سوچیں کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اور دنیا کے ان چند کیڑوں اور غلاظت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملا کر آپ بھی دنیا کے امن کی بربادی میں حصہ دار تو نہیں بن رہے؟ ہم احمدی مسلمان دنیا کی خدمت کے لئے کوئی بھی دقیقہ نہیں چھوڑتے۔امریکہ میں خون کی ضرورت پڑی۔گزشتہ سال ہم احمدیوں نے بارہ ہزار بوتلیں جمع کر کے دیں۔اس سال پھر وہ جمع کر رہے ہیں۔آجکل یہ ڈرائیو (Drive) چل رہی تھی۔اُن کو میں نے کہا کہ ہم احمدی (مسلمان) تو زندگی دینے کے لئے اپنا خون دے رہے ہیں اور تم لوگ اپنی ان حرکتوں سے اور اُن حرکت کرنے والوں کی ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے دل خون کر رہے ہو۔پس