ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 419
419 خوبصورت رد عمل، اپنی فضاؤں کو درود و سلام سے بھر دیں پس جہاں ایک احمدی مسلمان اس بیہودہ گوئی پر کراہت اور غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے وہاں ان لوگوں کو بھی اور اپنے اپنے ملکوں کے ارباب حل و عقد کو بھی ایک احمدی اس بیہودہ گوئی سے باز رہنے اور روکنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانی چاہئے۔دنیاوی لحاظ سے ایک احمدی اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ اس سازش کے خلاف دنیا کو اصل حقیقت سے آشنا کرے اور اصل حقیقت بتائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلو دکھائے۔اپنے ہر عمل سے آپ کے خوبصورت اُسوہ حسنہ کا اظہار کر کے اور اسلام کی تعلیم اور آپ کے اسوہ حسنہ کی عملی تصویر بن کر دنیا کو دکھائے۔ہاں ساتھ ہی یہ بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ درود و سلام کی طرف بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دے۔مرد، عورت، جوان، بوڑھا، بچہ اپنے ماحول کو، اپنی فضاؤں کو درود و سلام سے بھر دے۔اپنے عمل کو اسلامی تعلیم کا عملی نمونہ بنادے۔پس یہ خوبصورت رد عمل ہے جو ہم نے دکھانا ہے۔باقی ان ظالموں کے انجام کے بارے میں خدا تعالیٰ نے دوسری آیت میں بتا دیا ہے کہ رسول کو اذیت پہنچانے والے یا اس زمانے میں حقیقی مومنوں کا دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے حوالے سے تکلیف پہنچا کر چھلنی کرنے والوں سے خدا تعالیٰ خود نپٹ لے گا۔ان لوگوں پر اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے وہ اور زیادہ گندگی میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔اور مرنے کے بعد ایسے لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے رسوا کن عذاب مقدر کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔پس یہ لوگ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کی صورت میں اور مرنے کے بعد رُسوا کن عذاب کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچیں گے۔جو دوسرے مسلمان ہیں ، ان مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ رد عمل دکھانا چاہئے کہ درود شریف سے اپنے ملکوں ، اپنے علاقوں ، اپنے ماحول کی فضاؤں کو بھر دیں۔یہ رد عمل ہے۔اپنے ملکوں کی جائیدادوں کو آگ لگانے کا رد عمل بے فائدہ ہے ید رد عمل تو بے فائدہ ہے کہ اپنے ہی ملکوں میں اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگائی جائے یا اپنے ہی ملک کے شہریوں کو مارا جائے یا جلوس نکل رہے ہیں تو پولیس کو مجبوراً اپنے ہی شہریوں پر فائرنگ کرنی پڑے اور اپنے لوگ ہی مر رہے ہوں۔اخبارات اور میڈیا کے ذریعے سے جو خبریں باہر آ رہی ہیں، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر شریف الطبع مغربی لوگوں نے بھی اس حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کراہت کا اظہار کیا ہے۔وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں لیکن جن کی فطرت میں شرافت ہے انہوں نے امریکہ میں بھی اور یہاں بھی اس کو پسند نہیں کیا۔لیکن جو لیڈرشپ ہے وہ ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ یہ غلط ہے اور دوسری طرف آزادی اظہار و خیال کو آڑ بنا کر اس کی تائید بھی کرتی ہے۔یہ دو عملی نہیں چل سکتی۔