ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 22
22 آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا میرا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے مقدم ہے۔اس کے بعد اقوال رسول کا درجہ ہے اور میرے نزدیک کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں ہے۔حضور نے یہ سن کر بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول اور نا قابل اعتراض ہے۔جو شخص آپ کو ساتھ لے گیا تھا وہ سخت طیش سے بھر گیا کہ آپ نے ہمیں ذلیل اور رسوا کیا۔مگر آپ کو ہ وقار بنے رہے اور اس ہنگامہ آرائی کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں یہ کہوں کہ امت کے کسی فرد کا قول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر مقدم ہے؟ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے رسول کے حق میں بیان سن کر اس قدرت غیرت آئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس پرخوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے آپ کو الہاما خبر دی۔" تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔" (براہین احمدیہ از روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 621-622 ) ( تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 112) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے منگل لودھی کے ایک مولوی اللہ دتہ کو قادیان بلوایا۔قادیان میں اپنے قیام کے دوران مولوی صاحب حضور علیہ السلام سے مسئلہ حیات النبی اور دوسرے مسائل پر مذاکرے کیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد مولوی صاحب اپنے گاؤں واپس چلے گئے وہاں جا کر مولوی صاحب نے انہی مسائل کے متعلق ایک منظوم فارسی خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوتحریر کیا۔جس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی 6 ستمبر 1872ء کو ایک پُر کیف اور مبسوط فارسی نظم انہیں بھجوائی۔اس نظم سے یہ حقیقت بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ آپ کو ابتداء ہی سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت والہانہ عقیدت تھی اور آپ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دل و جان سے ابدی حیات کے تخت پر رونق افروز ہونے والا زندہ نبی یقین کرتے۔حضور کے چشمہ فیض و برکات کو اپنے دل میں رواں دواں پاتے اور حضور کی عظمتوں اور برکتوں کی منادی کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔نظم سے صرف چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل ہے۔سپاس آں خداوند یکتائے را اس بے مثل خداوند کا شکر ہے جس نے دنیا کو چاند اور سورج سے آراستہ کیا جہاں جمله یک صنعت آباد اوست خنک نیک بخته که دریاد اوست سارا جہاں اس کی کاریگری کا مظہر ہے۔خوش قسمت ہے وہ نیک بخت جو اس کی یاد میں رہتا ہے چنین است ثابت، بقول سروش اگر راز معنی نیابی خموش سے یہی ثابت ہے۔اگر تیری سمجھ میں یہ راز نہ آئے تو چپ رہ الهام الہی بمہر و بمه، عالم آرائے را