ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 21
21 کسی دوسرے خواندہ آدمی کی ہے۔اس پر افترا کتاب کا تدارک بہت جلد از بس ضروری ہے اور یہ عاجز بھی ضروری کام سراج منیر سے جو مجھے در پیش ہے۔بالکل عدیم الفرصت ہے اور میں مبالغہ سے نہیں کہتا اور نہ آپ کی تعریف کی رو سے۔بلکہ قوی یقین ہے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ جما دیا ہے کہ جس قدر اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لئے آپ کے دل میں جوش ڈالا ہے اور میری ہمدردی پر مستعد کیا ہے۔کوئی دوسرا آدمی ان صفات سے موصوف نظر نہیں آتا۔اس لئے میں آپ کو یہ بھی تکلیف دیتا ہوں کہ آپ اول سے آخر تک اس کتاب کو دیکھیں اور جس قدر اس شخص نے اعتراضات اسلام پر کئے ہیں۔ان سب کو ایک پرچہ کاغذ پر بیاد داشت صفحہ کتاب نقل کریں اور پھر ان کی نسبت معقول جواب سوچیں اور جس قد ر اللہ تعالیٰ آپ کو جوابات معقول دل میں ڈالے وہ سب الگ الگ لکھ کر میری طرف روانہ فرماویں اور جو کچھ خاص میرے ذمہ ہوگا۔میں فرصت پا کر اس کا جواب لکھوں گا۔غرض یہ کام نہایت ضروری ہے اور میں بہت تاکید سے آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ ہمہ جد و جہد، جانفشانی اور مجاہدہ سے اس طرف متوجہ ہوں اور جس طرح مالی کام میں آپ نے پوری نصرت کی ہے اس سے یہ کم نہیں ہے کہ آپ خدا داد طاقتوں کی رُو سے بھی نصرت کریں۔" مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 42-43) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت صوفی احمد جان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں میر عباس علی صاحب کولکھا کہ :۔اس کتاب میں تعریف قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔سو وہ دونوں دریائے بے انتہاء ہیں کہ اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل ان کی تعریف کرتے رہیں تب بھی حق تعریف کا ادا نہیں ہو سکتا۔چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خداوند کریم کی طرف سے القاء ہوئے کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔اور اسی وقت تک کوئی دوسرا ان کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تک اس نبی کریم کی متابعت کرے اور جب متابعت سے ایک ذرہ منہ پھیرے تو پھر تحت الثری میں گر جاتا ہے۔ان الہامی عبارتوں میں خداوند کریم کا یہی منشاء ہے کہ تا اپنے نبی اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے۔" ( مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 509) تیرا خدا ترے اس فعل سے راضی ہوا 1868ءتا1869ء کی بات ہے کہ جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دلی سے حصول تعلیم کے بعد بٹالہ آئے تو اہل حدیث کے خلاف ہوا چل پڑی اور بہت سے اسلامی فرقوں کی طرف سے اہل حدیث کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔حسن اتفاق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ان دنوں کسی کام کے سلسلہ میں کچھ دن بٹالہ میں قیام کرنا پڑا۔گو آپ کو اس نوعیت کے مذہبی اکھاڑوں سے چنداں کوئی دلچسپی نہ تھی۔لیکن ایک شخص کے اصرار پر آپ کو بھی تبادلہ خیالات کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان پر جانا پڑا۔حضور نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ