ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 416 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 416

416 ذریعے اور عمومی نمائشوں میں بیشک ہم حصہ لیتے ہیں لیکن اس کی کوریج میڈ یا پر نہیں ہوتی ، کیونکہ وہاں اور بڑے بڑے سٹال لگائے ہوتے ہیں ، لوگ آئے ہوتے ہیں، مختلف قسم کی تو جہات ہوتی ہیں ، تر جیحات ہوتی ہیں، تو خاص طور پر ہم علیحدہ نمائش کریں گے، تو اس کا بہر حال زیادہ اثر ہو گا۔ایک اہتمام سے علیحدہ انتظام ہوتو دنیا کو پتہ چلے گا کہ قرآنِ کریم کیا ہے؟ اور اس کی تعلیم کیا ہے؟ جہاد یا قتال کے خلاف دشمن بہت کچھ کہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کن حالات میں اس کی اجازت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں تلوار اٹھانے کی اجازت دی ہے وہاں تو ساتھ ہی عیسائیوں اور یہودیوں اور دوسرے مذہب والوں کی حفاظت کی بھی بات کی ہے۔صرف مسلمانوں کی حفاظت کی بات نہیں کی۔پس یہ دجالی چالیں ہیں جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے بعض حلقوں سے وقتا فوقتا چلائی جاتی ہیں۔ہمیں ان کے مکمل توڑ کی ضرورت ہے اور مکمل توڑ کے لئے مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔جماعت احمد یہ ہی ہے جو اس کا حقیقی حق ادا کر سکتی ہے۔۔۔۔احمدی کا پہلا کام اپنے عملوں کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنا۔۔۔۔۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ جب بھی ہم اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر دشمنوں کے غلیظ حملوں کو دیکھیں تو سب سے پہلے اپنے عملوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، پھر معاشرے میں اس خوبصورت تعلیم کا پر چار کریں اور اس کے لئے جوذ رائع بھی میسر ہیں انہیں استعمال کیا جائے۔" خطبات مسرور جلد 9 صفحه 139-147 ) امریکہ میں ایک خبیث الطبع کی اسلام اور محمد کے خلاف ایک فلم 2012 ء میں اسلام کے خلاف ایک اور سازش نمایاں طور پر سامنے آئی جب ایک امریکن عیسائی نکولا بسیلے (Nakoula Basseley) نے قرآن کریم پر ایک فلم بناڈالی اور اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔اس موقع پر بھی ہمارے عاشق رسول پیارے امام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کیسے خاموش رہ سکتے تھے۔آپ نے فوراً رد عمل ظاہر فرمایا اور لگا تار دو خطبات میں نہ صرف اس کا رد فرمایا بلکہ اس طرح کی خبیثانہ حرکات کے سدباب کے لئے ایک جامع لائحہ عمل جماعت کے سامنے رکھا۔آپ مورخہ 21 ستمبر 2012ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں: " آجکل مسلم دنیا میں، اسلامی ممالک میں بھی اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمانوں میں بھی اسلام دشمن عناصر کے انتہائی گھٹیا، گھناؤنے اور ظالمانہ فعل پر شدید غم و غصہ کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔اس غم وغصہ کے اظہار میں مسلمان یقینا حق بجانب ہیں۔مسلمان تو ، چاہے وہ اس بات کا صحیح ادراک رکھتا ہے یا نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی مقام کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کیلئے مرنے کٹنے پر تیار ہو جاتا ہے۔