ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 417 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 417

417 ہر مسلمان کا غم وغصہ ایک قدرتی بات ہے دشمنان اسلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بیہودہ اور لغو فلم بنائی ہے اور جس ظالمانہ طور پر اس فلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہانت کا اظہار کیا گیا ہے اس پر ہر مسلمان کا غم اور غصہ ایک قدرتی بات ہے۔وہ محسن انسانیت، رحمت للعالمین اور اللہ تعالیٰ کا محبوب جس نے اپنی راتوں کو بھی مخلوق کے غم میں جگایا، جس نے اپنی جان کو خلوق کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے اس درد کا اظہار کیا اور اس طرح غم میں اپنے آپ کو مبتلا کیا کہ عرش کے خدا نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تو ان لوگوں کے لئے کہ کیوں یہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو نہیں پہچانتے، ہلاکت میں ڈال لے گا؟ اس عظیم محسنِ انسانیت کے بارے میں ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقینا ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہئے تھا اور ہوا اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلیف پہنچی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں۔جس نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔پس ہمارے دل اس فعل پر چھلنی ہیں۔ہمارے جگر کٹ رہے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ ان ظالموں سے بدلہ لے۔اُنہیں وہ عبرت کا نشان بنا جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔ہمیں تو زمانے کے امام نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح اور اک عطا فرمایا ہے کہ جنگل کے سانپوں اور جانوروں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت خاتم الانبیاء کی تو ہین کرنے والے اور اُس پر ضد کرتے چلے جانے والے سے ہم صلح نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔اس زمانے میں اخباروں اور اشتہاروں کے ساتھ میڈیا کے دوسرے ذرائع کو بھی اس بیہودہ چیز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔پس یہ لوگ جو اپنی ضد کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر رہے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ اُس کی پکڑ میں آئیں گے۔یہ ضد پر قائم ہیں اور ڈھٹائی سے اپنے ظالمانہ فعل کا اظہار کرتے چلے جارہے ہیں۔2006ء میں ڈنمارک میں بیہودہ تصاویر 2006ء میں جب ڈنمارک کے خبیث الطبع لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیہودہ تصویریں بنائی تھیں تو اُس وقت بھی میں نے جہاں جماعت کو صحیح رد عمل دکھانے کی طرف توجہ دلائی تھی وہاں یہ بھی کہا تھا کہ یہ ظالم لوگ پہلے بھی پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس پر بس نہیں ہوگی۔اس احتجاج وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جو آب مسلمانوں کی طرف سے ہو رہا ہے بلکہ آئندہ بھی یہ لوگ ایسی حرکات کرتے رہیں گے۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اُس سے بڑھ کر یہ بیہودگی اور ظلم پر اتر آئے ہیں اور اُس وقت سے آہستہ آہستہ اس طرف ان کا یہ طریق بڑھتا ہی جا رہا ہے۔یہ لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں پس یہ ان کی اسلام کے مقابل پر ہزیمت اور شکست ہے جو ان کو آزادی خیال کے نام پر بیہودگی پر آمادہ کر رہی