ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 415 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 415

415 نکالنے کا اُبال اٹھتا رہتا ہے۔گذشتہ دنوں پھر یہ خبر تھی اور بعض مسلمان ممالک میں اس خبر کا بڑا سخت رد عمل ظاہر ہوا اور ہورہا ہے۔جب ایک بدفطرت امریکی پادری نے جس نے ستمبر 2010ء میں قرآن کریم کے بارہ میں بیہودہ گوئی اور دریدہ دینی کی تھی اور قرآن کریم کو جلانے کی باتیں کی تھیں۔اُس وقت تو وہ کسی دباؤ کے تحت یہ ظالمانہ کام نہیں کر سکا تھا۔لیکن دودن پہلے اُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قرآن کریم کو جلانے کی مذموم حرکت کی ہے۔اور اپنی اس ناپاک حرکت کو جسٹیفائی ( Justify) اس طرح کرتا ہے، یہ ڈھکوسلا اس نے بنایا ہے کہ ایک جیوری بنائی جس کے بارہ ممبر تھے اور اُس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کے لئے فریق کے طور پر ایک مسجد کے امام کو بھی بلایا گیا کہ قرآن کریم کا دفاع کرو۔اور چھ گھنٹے کے بعد جیوری نے فیصلہ کیا کہ نعوذ باللہ قرآن کریم شدت پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اس لئے اس کو جلایا جائے۔خود ہی فریق ہیں اور خود ہی حج ہیں بلکہ کہنا چاہئے کہ خود ہی مجرم ہیں اور خود ہی منصف ہیں۔بہر حال اس پادری کی امریکہ میں کوئی ایسی حیثیت نہیں ہے کہ بہت ساری اُس کی following ہو، بہت سارے اُس کے پیچھے چلنے والے ہوں ، ماننے والے ہوں۔چند سولوگ شاید اُس کے چرچ میں آنے والے ہیں۔وہ ستی شہرت کے لئے یہ ظالمانہ حرکتیں کر رہا ہے۔اخباروں اور میڈیا نے اس حرکت کو پھر اٹھایا ہے۔۔۔۔امریکہ کی جماعت کو مکمل اقدام اٹھانے کی ہدایت امریکہ میں ہی اگر صحیح طور پر پروگرام بنا کر نمائش لگائی جاتی تو میڈیا جس کی آج کل توجہ اسلام کی طرف ہے اگر ایک طرف اس ظالم کی باتیں بیان کرتا ہے تو ہماری بھی بیان کرتا۔گوامریکہ کی جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امن کا پیغام پہنچانے کے لئے ، جماعت کا پورا پیغام پہنچانے کے لئے لیف لیٹنگ (Leafletting) اور سیمینارز وغیرہ بڑے وسیع پیمانے پر کئے ہیں اور ایک اچھا کام ہوا ہے اس کو میڈیا میں کافی کوریج ملی ہے لیکن اس طرح کے کام نمائش وغیرہ کے اُس طرح نہیں ہوئے جس طرح ہونے چاہئے تھے۔مومن کا کام ہے کہ ہر محاذ پر نظر رکھے۔اگر با قاعدہ آرگنائز کر کے امریکہ میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی نمائشوں کا اہتمام ہو، چاہے ہال کرایہ پر لے کر کیا جائے کیونکہ بعض دفعہ جب مساجد میں نمائشیں ہوتی ہیں تو اسلام کے بارے میں کیونکہ غلط تاثر اتنا پیدا کر دیا گیا ہے کہ ایک خوف بلا وجہ کا پیدا ہوگیا ہے دنیا میں، تو بعض لوگ شامل نہیں ہوتے۔تو اگر ہال وغیرہ کرائے پر لئے جائیں، اُس میں نمائش کی جائے، قرآن کریم کے تراجم رکھے جائیں، اُس کی خوبصورت تعلیم کے پوسٹر اور بینر بناکے لگائے جائیں، خوبصورت قسم کا ڈسپلے ہو وہاں، تو لوگوں کی توجہ کھنچے گا یہ میڈیا کی توجہ بھی اس طرف ہو گی۔آج کل اسلام کی طرف توجہ ہوئی ہوئی ہے، بعض جائز باتیں بھی لکھ دیتے ہیں ، جماعت کے بارہ میں جو بھی خبریں آتی ہیں اکثر صحیح بھی لکھ دیتے ہیں، تو نیت کیا ہے ان کی یہ خدا بہتر جانتا ہے لیکن بہر حال ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔سٹالوں کے