ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 413
413 اللہ کی کتاب پڑھنے سے ہی اسلام کی عزت بچائی جاسکتی ہے پیس یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں اس کتاب کو پڑھنے سے مخالفین کے منہ بند کئے جاسکتے ہیں اور یہی اسلام کی عزت بچانا ہے۔لیکن کیا صرف پڑھنا کافی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ بڑے واضح ہیں کہ اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے۔یعنی قرآن کریم میں وہ دلائل ہیں جن سے اسلام کی عزت قائم ہوگی اور اُس جھوٹ کی جو مخالفین، اسلام پر افتراء کرتے ہیں ، جڑیں اکھیڑی جائیں گی۔اور یہی اصول ہے جس سے اسلام کی عزت بچائی جائے گی۔جھوٹ کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب ہمارے ہر عمل میں اس تعلیم کی چھاپ نظر آ رہی ہوگی اور یہ چھاپ بھی اس وقت ہوگی جب ہم اس پر غور کرتے ہوئے با قاعدہ تلاوت کرنے والے بنیں گے۔۔۔۔پس یہ توقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک احمدی سے ہیں۔قرآن کریم کے تمام احکامات کی پیروی کی کوشش ہی ہے جو ہمیں نجات کی راہیں دکھانے والی ہے۔اس کے لئے ایک لگن کے ساتھ ، ایک تڑپ کے ساتھ ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ تقویٰ کے راستوں کی تلاش ہم نے کرنی ہے اور اسی مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے تو پھر یہ تقویٰ انہی راستوں پر چل کر ہی ملے گا جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ چلے تھے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان کر دنیا میں ایک پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے اور ایک انقلاب لانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنی حالتوں میں انقلاب لانا ہو گا۔اپنی نسلوں میں انقلاب لانا ہوگا۔اپنے ماحول کو اس روشن تعلیم سے آگاہ کرنا ہوگا۔اس تعلیم سے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کے منہ بند کرنے ہوں گے جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔جن کو یہ فکر پڑ گئی ہے کہ اسلام کی طرف کیوں دنیا کی توجہ ہے۔جس کی تحقیق کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں جائزہ کے لئے پیسہ خرچ کیا جارہا ہے۔اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ یہ اسلام کی خوبیاں تلاش کرنے کے لئے ریسرچ ہو رہی ہے یا تحقیق ہو رہی ہے کہ خوبیاں کیا ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اسلام کا حسن نظر آئے تو یہ غلط فہمی ہے۔یہ تحقیق اس لئے ہے کہ ان طاقتوں اور حکومتوں کو ہوشیار کیا جائے جو اسلام کے خلاف ہیں کہ اس رجحان کو معمولی نہ سمجھو اور جو کارروائی کرنی ہے کرلو۔جو ظاہری اور چھپے ہوئے وار کرنے ہیں کر لو اور اس کے لئے جو بھی حکمت عملی وضع کرنی ہے وہ ابھی کرلو، وقت ہے۔ایک احمدی کی ذمہ داری تلاوت کا حق ادا کرنا ہے پس ہر احمدی کی آج ذمہ داری ہے کہ اس عظیم صحیفہ الہی کی ، اس قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کریں۔اپنے آپ کو بھی بچائیں اور دنیا کو بھی بچائیں۔جن لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن احمدی نہیں ہوئے ان میں سے بہت سوں نے آخر حقیقی اسلام اور حق کی تلاش میں احمدیت کی گود میں آنا ہے انشاء اللہ تعالی۔اس کے لئے ہر احمدی کو اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔آج جب اسلام دشمن طاقتیں ہر قسم کے ہتھکنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال