ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 412
412 اسلام اور آنحضور کی عزت بچانے کے لئے قرآن کریم پڑھنے ، پڑھانے اور سمجھنے، سمجھانے کی تحریک حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے ایک ارشاد کہ اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتا بیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی " کی روشنی میں احمدیوں کو قرآن کریم کی سمجھ بوجھ کے ساتھ تلاوت کرنے ، اس کے معنوں پر تدبر کرنے اور احکامات پر عمل کرنے کی ایسے وقت میں نصیحت فرمائی جبکہ یورپ میں اسلام کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی کھڑا تھا۔آپ 7 مارچ 2008ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔خطبہ جمعہ 7 مارچ 2008ء " گزشتہ خطبہ میں میں نے قرآن کریم کے حوالے سے بات کی تھی کہ کیوں مغرب میں اس قدر اسلام کے خلاف نفرت اور استہزاء کی فضا پیدا کی جارہی ہے اور یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا اسلام کے غلبے کا بھی اور قرآن کریم کی حفاظت کا بھی وعدہ ہے۔پس اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جتنی بھی یہ کوشش چاہیں کر لیں ان کے یہ رکیک حملے نہ اسلام کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ اس کامل کتاب کے حسن کو ماند کر سکتے ہیں۔ہاں ایسے لوگ جو سامنے آ کر حملے کر رہے ہیں یا وہ جو پیچھے سے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان کے اسلام کے خلاف بغض اور کینوں کے اظہار ہورہے ہیں۔بہر حال یہ کام تو ان اسلام دشمنوں نے کرتے رہنا ہے اس لئے اس کی کوئی فکر نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا اس کی یعنی قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ ہے۔اسلام مخالفین کی نازیبا حرکتوں پر ہمارا رد عمل لیکن جب ایسی حرکتیں ہوں اسلام مخالفین کی تو اس پر ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔ایک احمدی مسلمان کو اپنے اندر کیا خصوصیات پیدا کرنی چاہئیں جس سے وہ دشمنوں کے حملے کے رد کے لئے تیار ہو سکے۔اس فوج کا سپاہی بن سکے جس کے لئے اس نے زمانے کے امام سے عہد باندھا ہے۔ان فضلوں کا وارث بن سکے جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے والوں کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں۔اس بارے میں کچھ باتیں میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس خوبصورت تعلیم کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں اور آپ کے عاشق صادق نے اس پیغام کو ہم پر واضح کرتے ہوئے ہم سے کیا تو قعات رکھی ہیں؟۔۔۔