ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 411
411 کھلے عام دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو کروسیڈ (Crusade) کا نام دے دیا تھا۔مذہبی جنگ کا نام دے دیا تھا۔یہ ان کی سادگی ہے اور ان کے کسی مشیر نے ان کو مشورہ بھی نہیں دیا۔خلاصہ آگے اس کا یہ بنتا ہے کہ بے شک یہ Crusade ہی سمجھتے لیکن کھلے عام نہ کہتے۔کیونکہ اس سے پھر عیسائیت کا اس سے بُرا اثر پڑتا ہے۔قرآنی تعلیم نے غالب آنا ہے تو یہاں تک ان لوگوں کا اسلام کے خلاف اور قرآن کے خلاف بغض اور کینہ بھرا ہوا ہے لیکن ان سب اس دشمنوں اور قرآن کے مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وہ تعلیم ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔یہ الہی تقدیر ہے اور اس کو ان کے دجل یا طاقت یا روپیہ یا پیسہ روک نہیں سکتے۔افسوس ! مسلمان حکومتیں اپنے فعل سے اسلام کو کمزور کر رہی ہیں لیکن افسوس ہوتا ہے بعض مسلمان حکومتوں پر بھی جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اپنے مقصد کو بھولی ہوئی ہیں ، اپنی ظاہری شان و شوکت کی وجہ سے انجانے میں یا جان بوجھ کر اسلام کو کمزور کر رہی ہیں۔صرف اس لئے کہ اپنی ظاہری شان وشوکت قائم رہے۔۔آنحضور کی زندگی پر استہزاء کرنے والے اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے آپ کو تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔کیا آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر استہزاء کرنے والے یا قرآن کریم کی تعلیم کو نعوذ باللہ جھوٹا کہنے والے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں گے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی غیرت رکھتے ہوئے ہمیشہ کیا ہے اور کرتا ہے؟ آج بھی دشمنوں کے اس گروہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کرنے کے لئے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔ان کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے تاکہ مختلف صورتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قرآن کریم کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے۔کتابوں کے ذریعہ، اخباروں کے ذریعے، ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ، اور اب جیسا کہ میں نے بتایا فلم کے ذریعہ سے یہ کوشش کی جارہی ہے۔تو انہوں نے آج یہ کام تقسیم کئے ہوئے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی تعلیم جھوٹی ہے۔کینیڈین پادری جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کی کوشش اپنی کتاب میں یہی تھی اور یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ان حرکتوں کی وجہ سے تم چھوڑے جاؤ گے۔اس کے لئے تمہیں جوابدہ ہونا ہو گا۔سزا کے لئے تیار ہونا ہوگا اگر اپنے رویے نہ بدلے۔اور یہ سزا اللہ تعالیٰ کس طرح دے گا ؟ وہ مالک ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔لیکن یہ اصولی بات ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔اپنی شریعت کے لئے غیرت رکھتا ہے اور غیرت دکھاتا ہے۔پس ان کے جو یہ عمل ہیں بغیر سزا کے چھوڑے نہیں جائیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا تو کوئی جھوٹا خدا ان کو نہیں بچاسکتا۔خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 9791)