ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 408 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 408

408 اور پڑھے لکھے لوگ ، اخباری نمائندے ہمارے فنکشن میں شامل ہو جائیں۔میرا خیال تھا کہ جماعت چھوٹی سی ہے اس لحاظ سے پندرہ بیس لوگوں کو تو یہ شامل کر ہی لیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے سوا سو سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوئے جن میں علاقے کے ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے، شہر کے میئر بھی تھے، سیاستدان بھی تھے ، پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اور حیران کن طور پر علاوہ چھوٹے اخباروں کے نیشنل اخبار کے نمائندے بھی تھے۔ان کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم کے چند پہلو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور قرآن کریم کی تعلیم کے حوالے سے پیش کئے۔کیونکہ یہ جو وہاں کا اعتراض کرنے والا سیاستدان ہے ان چیزوں پر ہی وہ اعتراض کرتا ہے۔وہاں کے میئر نے اور ایم پی نے بھی مختصر خطاب کیا اور مذہبی رواداری اور برداشت کی باتیں کیں۔بعد میں جیسا کہ میں نے کہا، جب میں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ پیش کیا تو ایم پی نے جو بعد میں مجھ سے باتیں کیں، اُس نے اسلام کی خوبصورت تعلیم سے کافی متاثر ہو کر اس کا ذکر کیا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ میرے خیال میں ہالینڈ جماعت کے سیاستدانوں سے رابطے نہیں۔ایم پی کی باتوں سے اس بات کا بھی اظہار ہوا اور تصدیق ہوگئی۔کہنے لگے آپ لوگ سیاستدانوں اور پڑھے لکھے طبقے سے زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں۔اُن کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتا ئیں اور پھر اخباروں اور ویب سائٹس پر بھی اس کا ذکر کریں۔اس طرح انہوں نے نام لئے بغیر یہ اشارہ کیا کہ اگر یہ کارروائی آپ لوگ کریں گے تو ولڈر (Wilder) جیسے اسلام دشمن لوگوں کے بھی منہ بند ہو جائیں گے اور عوام الناس کو بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پتہ چلے گا۔پھر اخبارات نے بھی بڑے اچھے انداز میں اس فنکشن کی تفصیلات اور جو کچھ میں نے کہا تھا ، وہ لکھیں۔وہاں ملک کے دوبڑے نیشنل اخبارات کے نمائندے آئے ہوئے تھے۔ایک نے تو میرے سے چند منٹ کا انٹرویو بھی لیا۔وہاں جب وہ نمائندہ اخبار کا اپنے سوال ختم کر چکا، تو میں نے اُسے کہا کہ میرے پاس بھی ایک سوال ہے۔یا میرے سوال یہ ہیں کہ یہ علاقہ جس میں نن سپیٹ ہے، ہمارا سینٹر، مرکز ہے۔ہالینڈ میں یہ علاقہ بائبل بیلٹ کہلاتا ہے۔دین کا علم رکھنے والے یہ لوگ ہیں۔باقی ہالینڈ کی نسبت زیادہ تعداد چرچ جانے والوں کی ہے۔حضرت عیسی کی آمد اور آمد ثانی کے بھی تم لوگ منتظر ہو، اُس کی نشانیاں بھی تم لوگوں کے مطابق کچھ نہ کچھ ہیں اور تمہارے مطابق یہ وقت آچکا ہے بلکہ گزر گیا ہے۔تو حضرت عیسی تو نہیں آئے ، جو آیا ہے جس کو ہم مسیح موعود مانتے ہیں، اب اس کی آمد پر غور کرو۔میری اس بات پر اُس کے چہرے پر ذرا سرخی آئی لیکن مسکرا کر چپ ہو گیا۔اُس نے کچھ کہا نہیں۔اس بات کے بعد میرا خیال تھا کہ وہ شاید ہمارے فنکشن کے بارے میں خبر نہ لگائے اور اگر لگائے گا بھی تو شاید صحیح حقائق پیش نہ کرے۔لیکن اگلے دن میرے لئے بھی اور وہاں کی جماعت کے لئے بھی یہ بات حیران کن تھی کہ نہ صرف اُس نے خبر لگائی بلکہ اخبار کے پہلے صفح پر ، پورے پہلے صفحے پر میری تصویر بھی دے دی اور اندر بھی تقریباً ڈیڑھ صفحہ کی اس فنکشن کی خبر ، تصویروں کے ساتھ شائع کی۔اور جلسے کے حوالے سے بڑی تفصیلی باتیں کیں۔اسلام کی تعلیم کے حوالے سے خبر دی۔