ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 409
409 یہ اخبار وہاں کا نیشنل اخبار ہے جولا کھوں کی تعداد میں پڑھا جاتا ہے۔پس اس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم اس ملک کے لوگوں میں بھی پہنچی۔اس طرح جیسا کہ میں نے کہا ایک اور نیشنل اخبار ہے اُس نے بھی خبر دی۔لوکل اخباروں نے بھی کوریج دی۔ان کے چند حصے میں پیش کر دیتا ہوں۔جو پہلا اخبار ہے ہالینڈ کا نیشنل اخبار داگ بلاؤ Dagblad اس کا نام ہے، اُس نے پہلے تو یہ خبر شائع کی کہ امن لانے والا خلیفہ۔اور اس کے بعد پھر میرے حوالے سے لکھا کہ حضرت عیسی کی واپسی کے متعلق جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ وفات پاچکے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔حضرت مرزا غلام احمد کی آمد ہی عیسی کی آمد ثانی ہے۔۔۔۔۔وہاں دوسرا نیشنل اخبار ہے ، تراؤ (Trouw)۔اُس نے بھی یہی سرخی جمائی کہ خلیفہ آئے اور انتہا پسندی کی مذمت کی۔پھر میرے حوالے سے لکھتا ہے اور بڑا موٹا اُس نے لکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الزام نہ دیں ( اس دہشتگردی اور شدت پسندی کا)۔پھر لکھا کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کی رُو سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہیں۔اُن کے پیروکار انہیں عیسی کی آمد ثانی کے مظہر مانتے ہیں۔احمدی کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد عیسی کی خصوصیات لئے ہوئے ہیں۔اس طرح اسلام کا پیغام بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد بھی ان لوگوں کے سامنے بڑے کھلے طور پر ، واضح طور پر بیان ہو گیا۔اسلام کا دفاع صرف جماعت احمدیہ کر سکتی ہے آج اسلام کا دفاع اور غیروں پر دلائل کے ساتھ بھر پور حملہ صرف اور صرف جماعت احمد یہ کرسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔پس اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ماننے والوں کا ہی کام ہے کہ اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کرائیں۔" (الفضل انٹرنیشنل 28 جون 2012ء) خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 582 تا 587) کینیڈا میں عیسائی مشنری کا آنحضور کی تضحیک اور قرآن پر نا پاک حملہ اور جماعت احمدیہ کا رد عمل مورخہ 29 فروری 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھنے والی تین آوازوں کا ذکر کر کے اس بارہ میں نہ صرف اسلامی تعلیم بیان فرمائی بلکہ