ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 20
20 اسلام کی طرف سے لڑنے والے سپہ سالار کے مقابلے کے لئے پوری طرح متحد ہو گئے۔خدا کا شیران گیدڑ بھبکیوں سے بھلا کیسے ڈرسکتا تھا۔آپ نے ان لوگوں کی دعوت مبارزت فوراً منظور کر لی۔اور مقابلہ کے لیے للکارا۔مخالفین اسلام تو ضرور مگر بعض اپنے بھی اسلام کی تائید میں اٹھنے والی پر شوکت آواز سے بوکھلا اٹھے اور اس کتاب نے ان میں ایک کھلبلی مچادی۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہجو کا نشانہ بنایا اور اسلام کے طرف سے لڑنے والے سپہ سالار کے مقابلے میں وہ پوری طرح متحد ہو گئے۔مگر اسلام کے اس جلیل القدر جر نیل نے ان کو للکارا۔سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں۔افلاطون بن جاویں۔بیکن کا اوتار دھاریں۔ارسطو کی نظر اور فکر لاویں۔اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں۔پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے الہ باطلہ " (براہین احمدیہ از روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 56-57) اس چینج کے بعد کیا اپنے اور کیا پرائے سب خاموش ہو گئے۔لیکن پشاور آریہ سماج کے ایک رسوائے عالم شاتم رسول اور دریدہ دہن شخص پنڈت لیکھرام نے " تکذیب براہین احمدیہ " کے نام سے جواب دینے کی ناکام کوشش کی مگر وہ جواب کے بجائے ہنرلیات و فضولیات کا مجموعہ کہلانے کا مستحق تھا۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت گندے الزامات لگائے۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے " تصدیق براہین احمدیہ " لکھ کر ان کا جواب دیا۔چند دن تک پادری ایل ایل ٹھا کر داس صاحب نے بھی براہین احمدیہ " کے خلاف شور و غوغا بلند کئے رکھا۔مگر پھر تاب مقابلہ نہلا کردم بخود ہو گئے۔حضرت مولانا نورالدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا کہ مجھے کوئی مجاہدہ بتایا جاوے۔آپ نے فرمایا عیسائیوں کی تردید میں ایک کتاب لکھو اور ان اعتراضات کا جواب دو جو اسلام پر کئے ہیں۔میں نے فصل الخطاب لکھی پھر دوسرے موقع پر دریافت کیا تو آپ نے فرمایا آریوں کے اعتراضوں کا جواب دو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی صاحب کو ایک خط 26 جولائی 1887ء میں لکھا۔میں آپ کو ایک ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ حال میں لیکھرام نامی ایک شخص نے میری کتاب براہین کے رڈ میں بہت کچھ بکواس کی ہے اور اپنی کتاب کا نام تکذیب براہین احمد یہ رکھا ہے۔یہ شخص اصل میں نجمی اور جاہل مطلق ہے اور بجز گندی زبان کے اور اس کے پاس کچھ نہیں۔مگر معلوم ہوا ہے کہ اس کتاب کی تالیف میں بعض انگریزی خواں اور دنی التعداد ہندوؤں نے اس کی مدد کی ہے۔کتاب میں دورنگ کی عبارتیں پائی جاتی ہیں۔جو عبارتیں دشنام دہی اور تمسخر اور جنسی اور ٹھٹھے سے بھری ہوئی ہیں اور لفظ لفظ میں تو ہین اور ٹوٹی پھوٹی عبارت اور گندی اور بد شکل ہیں۔وہ عبارتیں تو خاص لیکھرام کی ہیں اور جو عبارت کسی قدر تہذیب رکھتی ہے اور کسی علمی طور سے متعلق ہے وہ