ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 406 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 406

406 سیاسی اور سیاست کی آڑ میں مذہبی طاقتیں کام کریں گی۔امریکہ میں پہلے احمدی مشنری کی آمد کا مقصد صرف اسلام مخالف حملوں کو روکنا تھا ایک دلچسپ بات اس میں یہ کھی ہے کہ پہلا مشنری جو امریکہ آیا وہ احمدی تھا۔پھر لکھتے ہیں کہ اصل میں یہ مشنری امریکہ میں اسی ردعمل کے طور پر آیا تھا یا اس حملے کو روکنا اس کا مقصد تھا جو عیسائی مشنری تبلیغ کا کام کر کے ہندوستان میں کر رہے تھے۔اپنے پاس سے انہوں نے یہ بات بھی گھڑ لی کہ اس کا بنیادی مقصد امریکہ میں ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جو مسلمان مہاجرین کے لئے سازگار ہو۔اور اس کے لئے انہوں نے یعنی احمدیوں نے سفید فارم امریکن کو کنورٹ (Convert) کرنے کی کوشش کی، اسلام میں لانے کی کوشش کی لیکن کہتے ہیں کہ چند ایک کو اپنے میں شامل کر سکے۔پھر آگے لکھتے ہیں لیکن جن مسلمان مہاجرین کو یہ احمدی امریکہ میں آباد کرنے کی سوچ رہے تھے تا کہ ان کی تعداد بڑھے، انہوں نے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے باہر کرتے ہوئے رد کر دیا اور آخر احمدیوں نے سوچا کہ ان کی کوششیں تب بار آور ہو سکتی ہیں جب یہ ایفرو امریکن میں تبلیغ کریں اور انہیں بتائیں کہ تمہاری ایک پہچان ہے جو مسلمان ہو کر ہی مل سکتی ہے۔مزید یہ کہ تمہاری جڑیں مسلمانوں میں ہیں۔تمہیں ان لوگوں نے ، عیسائیوں نے زبردستی عیسائی بنالیا ہے اور پھر ظلم بھی کیا ہے۔برابری کا حق اگر تم لینا چاہتے ہو تو یہ صرف تمہیں اسلام میں مل سکتا ہے۔اور اس طرح افریقن امریکن اور افریقن مسلمان ایک طاقت بن سکتے ہیں اگر یہ مسلمان ہو جائیں۔یہ احمدیوں نے تبلیغ کی۔اور احمدیوں کے اس طرز سے دوسرے مسلمان گروپوں نے بھی فائدہ اٹھایا اور اس ذریعہ سے بڑی تیزی سے اسلام ایفر وامریکن میں پھیلا ، یا ابھی تک پھیل رہا ہے۔دوسری بڑی تعداد اسلام لانے میں سفید فام امریکن عورتوں کی ہے۔بہر حال جماعت کے متعلق تو توڑ مروڑ کر باتیں پیش کرنے سے ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ واضح طور پر بیان نہیں کرنا چاہتے۔کیونکہ جس طرح یہاں بیان کیا گیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ معلومات بہر حال ان کے پاس مکمل ہیں لیکن بیان ٹھیک نہیں۔اسی کتاب میں پھر ایک جگہ نئے شامل ہونے والوں میں سے ایک سفید فام عورت کو پوچھا گیا کہ کیوں مسلمان ہوئی تھی ؟ تو اس نے یہ جواب دیا کہ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھ لو تو انسان اس کے بعد اس طرح معصوم ہو جاتا ہے جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ۔اور پھر جنت کا تصور ہے کہ اگلے جہاں میں گناہ بخشے جائیں گے۔تو یہ باتیں کہ کلمہ پڑھ کر انسان پاک ہو جاتا ہے اور گناہ بخشے جاتے ہیں، یہ بات کسی طرح بھی اسلام مخالف طبقے کو خاص طور پر مغرب میں برداشت نہیں ہو سکتی۔اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طبقے میں یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے کہ کفارہ کا جو نظریہ ہے وہ غلط ہے۔اپنے گناہوں کی فکر کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ انسان معصوم ہو جاتا ہے اور اگلے جہان میں جنت دوزخ کا سوال ہے، جزا سزا کا سوال ہے اور یہ عیسائیت کے ایک بنیادی دعوے کا رد ہے جو کسی صورت میں بھی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہوسکتا۔بہر حال یہ بہت ہی سوچی سمجھی سکیم کے تحت اسلام پر حملے ہیں۔ایک آدھ بات میں نے مختصر بیان کر دی ہے۔