ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 405 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 405

405 دیا جاتا ہے۔سنا ہے ولڈر ز صاحب اب جماعت کے بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں کہ کسی طرح جماعت کے منفی پہلو حاصل کریں لیکن یہ مخالفین جتنا چاہیں زور لگا لیں۔یہ الہی جماعت ہے اور ہمیشہ وہی بات کرتی ہے جو حق ہو اور صداقت ہو اور اس میں سے یہی کچھ ان کو نظر آئے گا۔" ہالینڈ میں ایک اور شرارت خطبات مسرور جلد 9 صفحه 607-609) Women Embracing Islam کتاب کے ذریعہ اسلام پر حملہ۔جماعت احمدیہ کا دفاع اور حضرت خلیفہ ایسیح کا خطبہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 7 مارچ 2008ء کے خطبہ میں اسلام کے خلاف ایک اور شرارت کا ذکر فرمایا۔جس میں ہالینڈ میں شائع ہونے والی کتاب Women Embracing Islam میں درج اسلام مخالفانہ جملوں کا ذکر فرما کر اس کی تفصیل بیان فرمائی۔آپ نے فرمایا: عورتوں کی اسلام میں گہری دلچسپی اس سے پہلے میں ایک کتاب کے حوالے سے ذکر کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ دنوں نظر سے گزری۔کتاب کا نام ہے Women Embracing Islam عورتیں اسلام قبول کر رہی ہیں، اور مختلف حوالے سے ذکر ہے کہ کیوں یہی صنف جو ہے وہ اسلام قبول کر رہی ہے۔یہ کتاب کسی ایک مصنف کی نہیں ہے بلکہ کیرن وان نیومین (KARIN VAN NIEUMAN) نے ایڈٹ (edit) کی ہے۔اصل میں تو یہ مختلف لوگوں کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ہالینڈ کے ایک شہر میں جس کا نام ہے نائے میخن (NIJMEGEN)۔اس کی ایک یونیورسٹی میں ایک کانفرنس ہوئی۔وہاں ریسرچ پیپرز یعنی تحقیقی مقالے پڑھے گئے۔2003ء میں یہ کانفرنس ہوئی تھی۔اس کو خاتون نے ایڈٹ کیا اور 2006ء میں ٹیکساس یو نیورسٹی پریس نے اس کی اشاعت کی۔اس کتاب میں جیسا کہ میں نے کہا مختلف لوگوں کے حوالے سے باتیں ہیں۔ابتداء اس کی اس طرح ہوتی ہے کہ مذہب میں گزشتہ چند دہائیوں سے دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔اور پھر لکھتے ہیں کہ 11 ستمبر 2001ء کے بعد دنیا کی اسلام میں واضح دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔لکھتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کا عمومی تاثر ہے کہ جو اسلام مخالف مغربی عیسائی ہیں کہ لوگوں میں یہ دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔یا ان لوگوں کا بھی تاثر ہے جو خدا کو نہیں مانتے۔لکھنے والا یہ لکھتا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں چاہے یہ اسلام کے قبول کرنے والے کے ذہن میں ہو یا نہ ہو لیکن سمجھا یہی جاتا ہے کہ اس کی مذہب سے زیادہ سیاسی وجوہات ہیں۔بہر حال یہ ان کی سوچ ہے اور ظاہر ہے کہ جب سیاسی وجوہات سمجھی جائیں گی تو اس کو روکنے کے لئے مذہب کی آڑ میں