ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 404
404 ہمارے پاس کوئی دنیا وی ہتھیار نہیں ہے۔یہی میں نے کہا تھا۔لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ تم اور تم جیسے جتنے ہیں وہ فنا ہو جا ئیں۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارا اپنے تمام مخالفین اور دشمنوں سے مقابلہ یا تو دلائل کے ساتھ ہے یا پھر سب سے بڑھ کر دعاؤں کے ساتھ۔بہر حال یہ پریس ریلیز جوتھی ، یہ غیرت ولڈرز جو سیاستدان ہے اس نے بھی پڑھی اور انہوں نے اپنی حکومت کو خط لکھا اور حکومت سے ، ہوم منسٹر سے چند سوال کئے۔جب یہ وہاں پریس میں آئے تو وہاں کی جماعت نے مجھے لکھا کہ اس طرح اس نے سوال کئے ہیں۔لگتا تھا کہ جماعت والوں کو تھوڑی سی گھبراہٹ ہے۔اس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر ہوم آفس والے پوچھتے ہیں تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، پریشان بھی ہونے کی ضرورت نہیں۔کھل کر اپنا موقف بیان کریں۔بنیاد تو اس شخص نے خود قائم کی تھی جو غلط قسم کی حرکتیں کر رہا ہے۔جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط فلمیں بھی بنائی ہیں۔انتہائی سخت زبان اس نے استعمال کی تھی۔اسلام کو بدنام کیا تھا۔ہم نے تو اس کا جواب دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے نبی کی غیرت رکھنے والا ہے۔اور وہ پکڑ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔بہر حال اس نے یہ سوال جو اپنی حکومت کو بھیجے تھے اس کے سوالوں کا کچھ دنوں کے بعد حکومت نے جواب بھی دیا اور یہ وہاں اخبار میں بھی آگیا۔ولڈرز نے پہلا سوال یہ کیا تھا کہ کیا یہ آرٹیکل کہ World muslim leader sends warning to Dutch politician - Geert Wilders عالمی مسلمان رہنماء کی ہالینڈ کے سیاستدان غیرت ولڈرز کو تنبیہ آپ یعنی وزارت داخلہ ہالینڈ کے علم میں ہے؟ تو وزیر داخلہ نے اس کو جواب دیا کہ ہاں مجھے علم ہے۔یہ آرٹیکل میں نے پڑھا ہے۔پھر اگلا سوال اس کا یہ تھا میرا نام لیا تھا) کہ مرزا مسرور احمد نے یہ کہا کہ تم سن لو تمہاری پارٹی اور تمہارے جیسا ہر شخص بالآخر فنا ہو گا۔یہ ولڈرز نے منسٹر کو لکھا۔پھر آگے اس کی تشریح خود کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اس مفسدانہ بیان پر وزارت داخلہ اسلامی تنظیم کے خلاف کیا قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ ڈچ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ پریس ریلیز کے مطابق مرزا مسرور احمد نے کہا ہے کہ ایسے افراد اور گروہ کسی فساد یا دیگر سیکولر حربوں سے نہیں بلکہ صرف دعا کے ذریعے ہلاک ہوں گے۔اس بیان پر میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھتا جو کہ فساد کو ہوا دیتی ہو یا باعث فساد ہو۔اس لئے مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں احمد یہ مسلم جماعت کے خلاف کوئی قدم اٹھاؤں۔پھر تیسرا سوال اس نے یہ کیا تھاکہ احمدیہ مسلم کمینٹ ہالینڈ کا عالمگیر جماعت احمد یہ مسلمہ اور مسرور احمد سے کیا تعلق ہے؟ اس کا ڈچ وزیر نے جواب دیا کہ احمد یہ مسلم جماعت ہالینڈ عالمگیر جماعت احمد یہ مسلمہ کاہی ایک حصہ ہے۔تو یہ ہے ان کا جواب۔پس یہ ان لوگوں کی انصاف پسندی ہے۔ایک سیاستدان۔جو پارٹی کا لیڈر بھی ہے ہمبر آف پارلیمنٹ بھی ہے اور پھر ان کا اپنا ہم مذہب ہے، جب سوال اٹھاتا ہے تو اس کے سوالوں کا انصاف پر مبنی جواب