ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 400
400 اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگیں کہ وہ ہمیں اس درود کا حق ادا کرنے کی توفیق دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو قرآن کریم کی تعلیم کو روشن تر کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق دے۔اپنے آپ کو ہم اس رفیق اعلیٰ میں جذب کرنے والے بن جائیں جو اپنے ساتھیوں کو نہ صرف نقصان سے بچاتا ہے بلکہ ترقیات سے نوازتا ہے۔پس کیونکہ یہ زمانہ اور آئندہ آنے والا تا قیامت کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہم یہ دعا کریں کہ اے اللہ! آخری فتح تو یقینا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے لیکن ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اسے ہمارے زمانے میں لے آ۔ہالینڈ کے احمدیوں کو نصیحت ہالینڈ کی جماعت کو اس شخص ڈولڈ رز (Wilders) ایم پی پر یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ بے شک ہم قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے اور نہ ہی کبھی ہم قانون اپنے ہاتھ میں لے کر تم سے بدلہ لیں گے۔لیکن ہم اُس خدا کو ماننے والے ہیں جو حد سے بڑھے ہوؤں کو پکڑتا ہے۔اگر اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئے تو اس کی پکڑ کے نیچے آ سکتے ہو۔پس خدا کا خوف کرتے ہوئے اپنی حالت کو بدلو۔بے شک ہم تو خدا کے ماننے والے ہیں، اس خدا کے ماننے والے ہیں جو رفیق ہے اور اس صفت کے تحت وہ مہربانی کرنے والا بھی ہے، ہمدردی کرنے والا بھی ہے، رحم کرنے والا بھی ہے، نقصان سے بچانے والا بھی ہے اور امن سے رکھنے والا بھی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ہم تمہاری ہمدردی اور تمہیں بچانے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ اپنی حالت بدلو۔یہ ایک آخری کوشش ہے۔اس کے بعد أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِین کے حکم کے تحت ہم معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں اور وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی عزت و توقیر قائم کرنا جانتا ہے اور خوب جانتا ہے۔" خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 134-137) خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2011ء ولڈرز کو ایک بار پھر انتباہ حضور نے خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2011ء میں ایک بار پھر ولڈ رز کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا :۔" پس ہالینڈ کی جماعت بھی جو گو چھوٹی سی جماعت ہے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھے۔چند ایک کے کام کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ہالینڈ میں رہنے والے ہر احمدی کو اپنے ماحول میں اس اہم کام کو کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔یہ ہالینڈ ہی ہے جس میں وہ بد قسمت شخص بھی رہتا ہے جو اپنی سیاست چمکانے کے لئے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دریدہ دہنی میں بڑھتا چلا جارہا ہے، دشمنی اور مخالفت میں بڑھتا چلا جارہا ہے۔اس حد تک بغض و عناد میں بڑھ گیا ہے کہ اسلام کے نام پر اس کے منہ سے غصہ میں جھا گیں نکلنےلگتی ہیں۔گزشتہ دنوں جب کسی مسلمان تنظیم نے دہشت گردی کے عمل کی شدت سے مذمت کی تو اس ظالم نے جس کا نام ویل گلڈر ہے یہ اعلان کیا کہ یہ کافی