ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 399 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 399

399 کہ فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَنْخَبْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ (محمد :5) پس جب تم ان لوگوں سے بھڑ جاؤ جنہوں نے کفر کیا تو گردنوں پر وار کرو یہاں تک کہ جب تم ان کا بکثرت خون بہا لو تو مضبوطی سے بندھن کسو۔یہ اعتراض کوئی نیا اعتراض نہیں ہے۔بہت پرانا اعتراض ہے، میں نے پہلے بھی یہ ذکر کیا تھا کہ جنگوں میں یہ لوگ کیا کچھ نہیں کرتے لیکن شرارت ہے اس لئے کہ اس آیت کا جو اگلا حصہ ہے وہ بیان نہیں کرتا کہ جب جنگ ختم ہو جائے تو احسان کرتے ہوئے یا فدیہ لے کر جن کو قیدی بنایا ہے ان کو چھوڑ دو۔اصل میں تو یہ حکم اس لئے ہے کہ اسلام اس قدر نرمی اور دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ تعلیم کا یہ حصہ بتانا بھی ضروری تھا اور یہی کامل تعلیم کا کمال ہے کہ حالات کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔نہ تو اتنی سختی سے بدلے کا حکم ہے کہ ہر بات کا بدلہ دیا جائے اور انسانوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جائے۔نہ ہی اتنی نرمی کا حکم ہے کہ اگر ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔جس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔اور اس تعلیم کو ماننے والے سب سے زیادہ بدلے لیتے ہیں۔یہ ولڈر (Wilder) جو اس تعلیم کا پیروکار ہے، اس کو اپنے گریبان میں بھی کچھ جھانکنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اپنی تعلیم پر عمل کر رہا ہے۔درود شریف پڑھنے کی ہدایت پس جب تک درود پر توجہ رہے گی تو اس برکت سے جماعت کی ترقی اور خلافت سے تعلق اور اس کی حفاظت کا انتظام رہے گا۔لیکن اس وقت جو میں نے کہا ہے اور خاص طور پر توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ اس وقت خاص طور پر اس حوالے سے درود پڑھیں کہ آج دشمن، قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کی یہ کوشش سوائے اس کے بدانجام کے اس کو کوئی بھی نتیجہ نہیں دلاسکتی۔لیکن اس کی اس مذموم کوشش کے نتیجہ میں ہم احمدی یہ عہد کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کروڑوں اور اربوں دفعہ درود بھیجیں۔جماعت جب من حیث الجماعت درود بھیجتی ہے یا ایک وقت میں بھیجے گی تو اس کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی اور نہ صرف آج بلکہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسی توجہ سے ہم آپ پر درود بھیجتے چلے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے اور اس درود کو قبول فرمائے جس کے پڑھنے کا خود اس نے حکم دیا ہے اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی روشنی اور چمک دمک پہلے سے بڑھ کر دنیا پر ظاہر ہو۔پس آج جب دشمن اپنی دریدہ دہنی اور بد ارادوں میں تمام حدیں پھلانگ رہا ہے تو ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اسوہ پر عمل کرتے ہوئے کہ عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں