ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 19 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 19

19 اسلام کے دفاع پر بے مثال کتاب تحریر کرنے پر خراج تحسین "براہین احمدیہ " کا کچھ حصہ منظر عام پر آیا ہی تھا کہ ملک کے طول و عرض میں ایک زبر دست تہلکہ مچ گیا۔مسلمانان ہند نے جو کفر کے پے در پے حملوں سے نڈھال ہو چکے تھے خوشی اور مسرت سے تمتما اٹھے اور حضور کو بے مثال خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے اسلامی مدافعت کا زبردست شاہکار قرار دیا۔۔براہین احمدیہ کے محاسن و کمالات پر سب سے مبسوط اور زور دار ریویواہل حدیث لیڈرا بوسعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ " اشاعۃ السنہ " جلد ہفتم نمبر 6-11 میں لکھا۔جوقریبا دوسو صفحات پر محیط تھا اور اس میں اس کتاب کو اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی واحد اسلامی خدمت قرار دیا گیا تھا۔یہ تاریخی تبصرہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔"ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جا تا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کے نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑا اٹھا لیا ہواور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو۔وہ ہمارے پاس آکر تجربہ و مشاہدہ کرلے اور اس تجر بہ ومشاہدہ کا اقوام غیر کومزہ بھی چکھا دیا ہو۔" (اشاعۃ السنہ جلد ہفتم نمبر 6 صفحہ 169-170 ) تبصرہ کے آخری الفاظ یہ تھے۔"مؤلف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے اور مخالفین اسلام سے شرطیں لگا لگا کر تحدی کی ہے۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت دلائل عقلیہ قرآنیہ و معجزات نبوت محمدیہ سے (جس سے وہ اپنے الہامات و خوارق مراد رکھتے ہیں ) بچشم خود ملاحظہ کر لے۔" (اشاعۃ السنہ جلد ہفتم نمبر 6 صفحہ 348) یہ تو مسلمانوں کی طرف سے خیر مقدم کا نظارہ تھا لیکن دوسری طرف مخالفین اسلام کے کیمپ میں براہین احمدیہ کے اشتہار کی اشاعت ہی نے کھلبلی مچادی۔وہ قادیان کی گمنام بستی سے اسلام کی تائید میں اٹھنے والی پُر شوکت آواز پر بوکھلا اٹھے اور انہوں نے اخبار سفیر ہند۔نورافشاں اور رسالہ ودیا پر کا شک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صریح ہجو آمیز الفاظ میں یاد کرتے ہوئے براہین احمدیہ کا رد لکھنے کے لئے بڑے پُر جوش اعلانات شائع کر دیے اور