ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 394
394 طبیعت کی طرف مائل ہوتے گئے ، صاف ظاہر ہے کہ بغض اور کینے نے انہیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ قرآن پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور قرآن کو یہ لوگ ویسے بھی پڑھتے ہی نہیں ، ادھر ادھر سے سنی سنائی باتیں کرتے ہیں اور قرآن تو خیر کیا پڑھنا تھا، یہ تاریخ کو بھی مسخ کر رہے ہیں۔جو ان سے بہت زیادہ علم رکھنے والے عیسائی تھے وہ بھی جو اعتراض نہیں کر سکے انہوں نے وہ اعتراض بھی کر دیا۔پتہ نہیں کہاں کہاں سے یہ اعتراض ڈھونڈ نکالے ہیں۔سورۃ مائدہ نہ صرف مدنی سورۃ ہے بلکہ اس بارے میں ساری روایتیں یہی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سال میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس میں دشمنی اور تشدد کو ختم کرنے کی اور انصاف قائم کرنے کی کیا ہی خوبصورت تعلیم ہے۔یہ کہتے ہیں کہ مدینے میں آ کر تشدد کی تعلیم بڑھ گئی۔یہ آخری سورۃ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نازل ہوئی اس کی تعلیم کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى إِلَّا تَعْدِلُوْا إِعْدِلُوْا هُوَ أَقْرَبُ للتَّقوى (المائدۃ:9) کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کر وہ تم انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔اب یہ دکھا ئیں، یہ خوبصورت تعلیم ان کے یا کسی اور مذہب میں کہاں ہے۔لیکن جن کو بغض اور کینے نے اندھا کر دیا ہو، ان کو سامنے کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ نے تو پہلے ہی فرما دیا ہے کہ جواند ھے ہیں ان کو تم نے راستہ کیا دکھانا ہے، ان کو تم نے روشنی کیا دکھانی ہے، کوشش کر لو نہیں دکھا سکتے۔پھر یہ صاحب کہتے ہیں کہ سورۃ توبہ کی آیت 5 میں عیسائیوں، یہودیوں اور مرتدوں کے خلاف تشدد پر اکسایا ہے۔اگر آنکھوں کے پردے اتار کر دیکھیں، قرآن کریم کو صاف دل ہو کر پڑھیں تو خود ان کو نظر آئے گا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے جنگ کی اجازت دی ہے جو باز نہیں آتے ، کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر رہے، ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔اور اب جبکہ اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو حکم ہے کہ ایسے مشرکین سے جو تم سے جنگ کر رہے ہیں تم بھی جنگ کرو کیونکہ وہ تمہارے خلاف فتنہ فساد اور جنگ کی آگ بھڑکا رہے ہیں، مختلف قبائل کو بھی بھڑکا رہے ہیں اور صرف یہی نہیں جس طرح یہ فرماتے ہیں کہ سب کو قتل کر دینا ہے بلکہ اس میں قید کا بھی حکم ہے کہ قید کرو، ان کو محصور کرو، ان پر نظر رکھو، تا کہ وہ ملک میں فتنہ وفساد کی آگ نہ بھڑ کا ئیں۔اگر غیرت ولڈرز (Geert Wilders) صاحب کے نزدیک ایسی صورت میں بھی کھلی چھٹی ہونی چاہئے ، اگر ہر ایک کو اجازت ہے تو پھر یہ اپنے ملک میں پہلے سیاسی لیڈر ہیں جو تمام مجرموں کو کھلی چھٹی دلوانے کے لئے قانون پاس کروائیں گے کہ ہر کوئی جو چاہے کرتا پھرے۔یہ مجرم کسی خاص مذہب کے نہیں ہوں گے۔مجرم تو ہر قوم اور ہر مذہب میں ہیں پھر صرف مسلمانوں کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں جو امن سے ملک میں رہ رہے ہیں، جو ملک کے قانون کی پابندی کر رہے ہیں۔۔احمدی کا فرض ہم احمدی ک فرض ہے کہ جہاں مخالفین کے اعتراض کور ذکریں ، ان کو جواب دیں وہاں ان شرفاء کا شکر یہ بھی ادا کریں جو ابھی تک اخلاقی قدریں رکھے ہوئے ہیں۔اُن تک اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچائیں۔ان کے اندر جو