ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 395
395 نیک فطرت اور انصاف پسند انسان ہے، اس کو ایک خدا کا پیغام پہنچائیں۔آج دنیا میں جو ہر طرف افرا تفری ہے اس کی وجوہات بتائیں کہ تم لوگ خدا سے دور جا رہے ہو، اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانو، ان میں بھی ایک خدا کا پیغام پہنچائیں، ان کو بتائیں کہ دل کا چین اور سکون دنیا کی چکا چوند اور لہو ولعب میں نہیں ہے، نشہ میں نہیں ہے۔دلی سکون کے لئے یہاں کے لوگ نشہ کی بہت آڑ لیتے ہیں، ہر قسم کا نشہ کرتے ہیں۔ان کو بتا ئیں کہ اصل سکون خدا کی طرف آنے میں ہے، اس لئے اس خدا کو پہچانو جو واحد اور تمام قدرتوں کا مالک ہے۔جو لوگ حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور مذہب سے دور جانے والے ہیں یا مذہب اور خاص طور پر اسلام سے استہزاء کرنے والے ہیں، ان کے پیچھے نہ چلو۔اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کی پکڑ بھی کرتا ہے، ولڈرز (Wilders) جیسے لوگوں کو بھی بتا ئیں کہ اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو، اور اللہ کی غیرت کو نہ بھڑ کاؤ۔ہالینڈ والوں کو وارننگ آج کل جو یہ طوفان اور زلزلے دنیا میں آرہے ہیں، پانی کے طوفان ہیں، کہیں ہواؤں کے طوفان ہیں، کہیں زلزلے آ رہے ہیں۔یہ وارنگز ہیں کہ حد سے زیادہ بڑھنے والے اس کی لپیٹ میں بھی آ سکتے ہیں، کوئی دنیا کا ملک محفوظ نہیں ہے، کوئی دنیا کا شخص محفوظ نہیں ہے۔ہالینڈ تو ویسے بھی ایسا ملک ہے جس کا اکثر حصہ سمندر سے نکالا ہوا ہے، طوفان تو بلندیوں اور پہاڑوں کو بھی نہیں چھوڑتے ، یہ تو برابر کی جگہ ہے بلکہ بعض جگہ نیچی بھی ہے۔1953ء میں یہاں طوفان آیا تھا جس نے بڑی آبادی کو نقصان پہنچایا تھا۔اس کے بعد ان لوگوں نے ، یہاں کی حکومت نے بچاؤ کے لئے ایک بڑا منصوبہ بنایا جس میں دریاؤں کے منہ پر سمندر میں بہت سارے بند باندھے گئے ، روکیں بنائی گئیں، ڈیم بنائے گئے ، یہ منصوبہ جہاں مختلف جگہوں پر ہے ڈیلٹا ورکس کہلاتا ہے، ہمیں بھی اسے دیکھنے گیا تھا ، یہ ایک اچھی انسانی کوشش ہے لیکن دنیا میں آج کل جس طرح طوفان آ رہے ہیں، کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں ہے۔ہمارے ساتھ وہاں گائیڈ تھا، مجھے کہنے لگا کہ اس کی وجہ سے ہم نے آئندہ کے لئے ہالینڈ کومحفوظ کر دیا ہے۔تو میں نے اس سے کہا کہ یہ کہو کہ محفوظ کرنے کی جو بہترین کوشش ہو سکتی تھی ہم نے کی ہے۔اصل تو خدا جانتا ہے کہ کب تک کے لئے تم نے اس کو محفوظ کیا ہے، اور کب تک یہ حفاظت رہے گی۔کہنے لگا کہ بالکل ٹھیک ہے۔اس کے بعد جتنی دیر بھی وہ مجھے تفصیل بتاتا رہا، ہر فقرے کے ساتھ یہی کہتا تھا کہ یہ کوشش ہے، کیونکہ ایسے طوفان عموماً 200 سال بعد آتے ہیں۔لیکن اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب طوفان آئے اور کس حد تک یہ محفوظ رہ سکے۔بہر حال اس دوران میں جب بھی وہ مجھے کوئی تفصیل بتارہا تھا، کم از کم چار پانچ مرتبہ اس نے خدا کی خدائی کا اقرار کیا اور بیان کیا کہ ہاں اگر اللہ محفوظ رکھے تو ہم رہ سکتے ہیں۔تو یہاں ایسے لوگ ہیں جن کو اگر سمجھایا جائے تو ایک خدا کا تصور فوراً ابھرتا ہے۔آفت میں گھرے ہوں تو اللہ کہتا ہے کہ اس وقت میرا نام ہی لیتے ہیں اور کوئی خدا یاد نہیں آتا۔اس نے مجھے کہا کہ وزیٹرز بک (Visitors Book) پر اپنے تاثرات لکھ دو، دستخط کرو تو میں نے اس پر یہی لکھا کہ یہ ایک اچھی