ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 393 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 393

393 ہوئے ہیں اور خدا کے تصور کو نہ ماننے والے ہیں یہ بھی تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان سب کو نظر آ رہا ہے کہ مذہب کا اور خدا کی ذات کا صحیح تصور پیش کرنے والی اگر کوئی تعلیم ہے تو اب صرف اور صرف اسلام کی تعلیم ہے، قرآن کریم کی تعلیم ہے۔بعض سے تو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور کینے کا اظہار اس قدر ہوتا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں ، ان پڑھی لکھی قوموں میں، مغرب میں، جو اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ اور آزادی کا علمبردار اور دوسروں کے معاملے میں دخل نہ دینے کا دعوی کرنے والے ہیں، یہاں ایسے لوگ ہیں جو تمام حدیں پھلانگ گئے ہیں اور اسلام دشمنی نے ان کو بالکل اندھا کر دیا ہے۔سیاسی لیڈ ر غیرت ولڈرز کی اسلام اور بانی اسلام بارے ہرزہ سرائی گزشتہ دنوں یہاں ایک سیاسی لیڈر جن کا نام غیرت ولڈرز (Geert Wilders) تھا انہوں نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے اپنے دل کے بغض اور کینے کا اظہار کیا ہے۔ان کی ہرزہ سرائی آپ میں سے بہت سوں نے سنی ہوگی۔دنیا کو بھی پتہ لگے، لکھتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ سچائی کو خود دیکھیں۔ان لوگوں کی یہ بڑی دجالی چالیں ہوتی ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ اس بات کا آغاز محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے۔جس طرح اکثر مسلمان ان کی محبت بھری شخصیت کی خاکہ کشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ ویسے نہیں تھے۔جب تک وہ مکہ میں رہے اور یہاں پر بھی صرف قرآن کے کچھ حصے وجود میں آئے اُس وقت تک تو ان کی شخصیت میں محبت تھی لیکن جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی گئی اور خاص طور پر مدینے میں رہائش کے زمانے میں وہ بتدریج تشدد آمیز طبیعت کی طرف مائل ہوتے گئے (نعوذ بالله )۔۔۔۔۔۔پھر لکھتے ہیں قرآن میں حکومت اور مذہب کی علیحدگی کا کوئی تصور نہیں ہے، اس سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ نہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ ) ایک تشدد پسند شخصیت تھے بلکہ قرآن خود بھی متشددانہ خیالات پر مبنی کتاب ہے۔پھر ایک اور اخبار میں لکھتا ہے کہ میں خدا کی عبادت کا سن سن کر تنگ آ گیا ہوں، اخبار میں بیان دیتے ہوئے غیرت ولڈ رز (Geert Wilders) نے صرف قرآن پر پابندی لگانے کا ہی مطالبہ نہیں کیا بلکہ سیاسی رہنماؤں پر بھی تنقید کی کہ دہشت گرد مسلمانوں کو ملک میں جگہ دے رہے ہیں یعنی یہ بے چارے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ میں اسلام سے تنگ آ گیا ہوں اب کوئی مسلمان یہاں ہجرت کر کے نہیں آنا چاہئے ہمیں ہالینڈ میں اللہ کی عبادت کا سن سن کر بھر چکا ہوں، ہمیں ہالینڈ میں قرآن کے تذکرے سے تنگ آ گیا ہوں نعوذ باللہ اس فاشسٹ (Fascist) کتاب پر پابندی لگائی جائے۔فاشزم کا اظہار تو یہ خود کر رہے ہیں۔مدینہ میں آکر تشدد بڑھنے کے الزام کا جواب اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر انہوں نے پہلا اعتراض کیا ہے کہ جس طرح عمر بڑھتی گئی نعوذ باللہ نشہ آمیز