ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 392 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 392

392 عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ارضی و سماوی آفات کی خبر اپنی صداقت کے طور پر بھی دی ہے۔اس لئے بڑے خوف کا مقام ہے اور دنیا کو بڑی شدت سے متنبہ کرنے کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ان پر واضح کرنے کی ضرورت ہے۔اس نور کو دکھانے کی ضرورت ہے جس نے اُجڈ اور جاہل عرب کو اس زمانے میں مہذب ترین اور باخدا بنا دیا تھا۔۔۔۔۔پس یہ پیغام، پیغام تو حید ہے جو آج ہم نے ان سب تک پہنچانا ہے جو عقل اور شرافت رکھتے ہیں۔جن کے لئے ہمیں اب پہلے سے بڑھ کر کمر ہمت کسنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے یہ منصوبے ہیں جو حرکت میں آچکے ہیں اور ہم ہر روز اس کے نظارے دیکھتے ہیں ، دیکھ رہے ہیں۔ہماری تو یہ حقیر سی کوشش ہوگی جو ہمیں ثواب کا مستحق بنائے گی۔آخر میں پھر میں ان بڑ بولوں تک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پہنچانا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔" مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے اس کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے ان کو یاد کرتے ہیں۔آپ یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے۔مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔" چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 385 ) ( خطبات مسرور جلد 5 صفحه 77-82) خطبہ جمعہ 24 اگست 2007 ء پھر آپ نے اپنے دورہ یورپ کے دوران نن سپیٹ ہالینڈ میں 24 اگست 2007 ء کو ایک معرکہ آراء تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں آپ نے نہایت احسن اور پیار بھرے انداز میں پوری قوم کو مخاطب ہو کر سمجھایا اور پھر باز نہ آنے کی صورت میں انذاری رنگ میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کے بغض اور کینے میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہر روز اسلام ، بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر نئے سے نئے انداز میں حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا قرآن کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔تو بہر حال یہ لوگ اور پہلی قسم کے لوگ جو میں نے بتائے جو مذہب سے دور ہٹے