ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 391 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 391

391 لئے رؤف و رحیم تھے ، پر جو تعلیم اتاری ہے، جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، وہ اتنی خوبصورت تعلیم ہے کہ اگر وہ سمجھنے والے ہوں تو سمجھ جائیں۔۔۔۔مغرب والے اللہ کے پیاروں کے متعلق بے ہودہ گوئیوں سے باز آ جائیں ان لوگوں کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے۔مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی بجائے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے۔خودان میں کتنی نیکیاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی ہتک کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔آج مغرب میں جو بے شمار برائیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ اپنے گریبان میں نہ جھانکنے کی وجہ سے ہیں۔تمہارے گھروں کے چین اور سکون جو برباد ہوئے ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اب بھی اپنے خدا کو پہچان لو اور اس کے پیاروں کے بارے میں بیہودہ گوئیوں سے باز آ جاؤ اور رحیم خدا کو پکارو کہ وہ بخش دے۔مغرب والو! اگر بقا چاہتے ہو تو اللہ کے پیارے نبی کی ذات پر حملے بند کرو احمدیوں سے میں پھر یہ کہتا ہوں کہ اپنے اوپر اسلام کی تعلیم لاگو کرتے ہوئے ان عقل کے اندھوں یا کم از کم ان لوگوں کو جو ان کے زیر اثر آ رہے ہیں اور خدا کے پیاروں سے ہنسی ٹھٹھے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ، ان کو سمجھا ئیں کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو نہ تمہاری بقا ہے اور نہ تمہارے ملکوں کی بقا ہے۔کوئی اس کی ضمانت نہیں۔پس اگر اپنی بقا چاہتے ہو تو اس محسن انسانیت اور اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے بند کرو، اس سے تعلق پیدا کرو۔اگر تعلق نہیں بھی رکھنا تو کم از کم شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ خاموش رہو۔ہالینڈ کو انتباہ جنگوں کے علاوہ موسمی تغیرات کی وجہ سے بھی آجکل دنیا تا ہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ہالینڈ تو وہ ملک ہے جس میں اس لحاظ سے بھی شرک بڑھا ہوا ہے کہ یہاں کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ باقی دنیا کو تو خدا نے بنایا ہے لیکن ہالینڈ کو ہم نے بنایا ہے۔سمندر سے کچھ زمین نکال لینے کی وجہ سے ان کے دماغ الٹ گئے ہیں۔یہ نہیں سمجھتے کہ ملک کا اکثر حصہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔جب طوفان آتے ہیں، جب آفات آتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے عذاب آتے ہیں تو پھر وہ پہاڑوں کو بھی غرق کر دیتے ہیں۔پس ان لوگوں کو بھی اور دنیا میں ہر جگہ انسانیت کو اس حوالے سے خدا کے قریب لانے کے لئے احمدی کی ذمہ داری ہے۔اپنی ذمہ داری کو بھی سمجھیں اور خود بھی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے رحم کے جذبے کے تحت انسانیت کو بچانے کی فکر کریں۔دنیا کو ایک خدا کی پہچان کروائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو بہ کرنے والے، ایمان لانے والے اور پھر ایمان پر قائم رہتے ہوئے صالح عمل کرنے والے ہی ہیں جن کی بخشش ہو سکتی ہے۔پس یہ پیغام عام کر دیں اور نہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے پیارے پر ظالمانہ حملے کر کے