ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 390
390 ادا کرنے کے ناطے ہر وقت ہر ایک کے لئے ہمدردی کے جذبات سے پر تھا۔پھر کہتا ہے کہ قرآن کے احکامات ایسے ہیں کہ نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر علیحدہ کر دینا چاہئے۔ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ تم عملاً تو لا مذہب ہو لیکن جن مذاہب کو اسلام سے بہتر سمجھتے ہو، ان کی تعلیم کا قرآن کریم کی تعلیم سے موازنہ تو عقل کی آنکھ سے کر کے دیکھو۔تعصب سے پاک نظر کر کے پھر قرآن کا مطالعہ کرو اور پھر سمجھ نہ آئے تو ہم سے سمجھو کہ جہلاء کو اس پاک کلام کی سمجھ نہیں آسکتی۔قرآن کریم کا تو دعوی ہے کہ پہلے اپنے دلوں اور اپنے دماغوں کو پاک کرو تو پھر اس پاک تعلیم کی سمجھ آئے گی اور نہ تمہارے جیسے جہلاء تو پہلے بھی بہت گزر چکے ہیں جو اعتراض کرتے چلے گئے۔وہ بھی ابوالحکم کہلاتا تھا جس کا نام قرآن نہ سمجھنے کی وجہ سے ابو جہل پڑا۔اور وہ غریب مزدور ، وہ غلام جو دنیا کی نظر میں عقل اور فراست سے عاری تھے اس قرآن کو سمجھنے کی وجہ سے علم و عرفان پھیلانے والے بن گئے۔پس ہم تمہیں اتمام حجت کے لئے اس رؤف اور رحیم نبی کے حوالے سے توجہ دلاتے ہیں کہ وہ تم جیسے لوگوں کو بھی آگ کے عذاب سے بچانے کے لئے بے چین رہتا تھا۔اس کی باتوں کو غور اور تدبر سے پڑھو اور دیکھو، پر کھو سمجھو اور سمجھ نہ آئے تو ہم سے پوچھو اور اپنے آپ کو اس درد ناک عذاب سے بچاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے تیار کیا ہوا ہے۔جو حد سے بڑھنے والوں کے لئے مقدر ہے۔اللہ کرے کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے، یہ لوگ عقل کے ناخن لینے والے ہوں اور سمجھنے والے ہوں۔آنحضور کی زندگی کے ہر حسین لمحے کی تصویر لوگوں تک پہنچائیں لیکن یہ احمد یوں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس رؤف و رحیم نبی کی زندگی کے ہر حسین لمحے کی تصویران لوگوں تک پہنچا ئیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، جسے اللہ تعالیٰ نے رؤف و رحیم قرار دیا تھا، انہوں نے دہشت گردی کی تعلیم دی ہے۔ان کو بتائیں کہ اسلام کی جنگوں میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں کے ساتھ کیا نرمی اور احسان اور رحم کے سلوک کی اسلام کی تعلیم ہے۔جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا رحم کی تعلیم ہے۔اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر قیدیوں کے لئے رحم کے جذبات تھے۔وہ قیدی جو جنگی قیدی تھے ، جو جنگ میں اس غرض سے شریک تھے کہ مسلمانوں کا قتل کریں ان سے شفقت اور رحم کا سلوک ہے کہ آپ بھوکے رہ کر یا روکھی سوکھی کھا کر ان کو اچھا کھلایا جا رہا ہے۔آج اس سرا پا رافت اور رحم پر یہ الزام لگانے والے یہ بتائیں کہ جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر جو وہاں کی تمام آبادی کو جلا کر بھسم کر دیا تھا ، بچے بوڑھے، عورتیں ، مریض ، سب کے سب چشم زدن میں راکھ کا ڈھیر ہو گئے تھے بلکہ اردگرد کے علاقوں میں بسنے والے بھی اس کی وجہ سے سالوں بلکہ اب تک بہت ساری خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں ، نئے پیدا ہونے والے بچے اپاہج پیدا ہو رہے ہیں۔کیا یہ ہیں اعلیٰ اخلاق؟ جن کے انجام دینے والوں کو یہ لوگ امن پسند اور امن قائم کرنے والا کہتے ہیں۔عراق میں جو کچھ ہورہا ہے اس کو یہ لوگ کیا نام دیتے ہیں۔تم لوگ یا درکھو کہ ان تمام زیادتیوں کے باوجود اسلام کا خدا جس نے اپنے پیارے نبی ، جو ہر ایک کے