ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 389
389 ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ، اس ملک میں، جماعت احمد یہ جواب دیتی ہے۔ہالینڈ والوں کو بھی میں نے کہا تھا کہ اخباروں میں بھی لکھیں اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کا تصور ان کے ذہنوں میں پیدا کریں تا کہ عوام کے ذہنوں سے اس اثر کو زائل کیا جائے۔دراصل اسلام ہی ہے جو اس زمانے میں مذہب اور خدا کا عقلی اور حقیقی تصور پیش کرتا ہے۔اس طرح اگر تو یہ لوگ جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس قسم کی لغو اور بیہودہ باتیں لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے کرتے ہیں تو ان کو بتائیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ، زندگی کے ہر شعبے میں کیا ہے۔مخلوق خدا سے ہمدردی کس طرح آپ کے پاک دل میں بھری ہوئی ہے تاکہ ان کے ذہن صاف ہوں۔لیکن اگر ان کے دل صرف بغض اور کینے سے بھرے ہوئے ہیں اور کچھ سننے کے لئے تیار نہیں تو پھر اتمام حجت ہو جائے گا۔بہر حال آج یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو ہر احمدی نے انجام دینا ہے۔ممبر آف پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی ہالینڈ کے ممبر آف پارلیمنٹ جس کا میں نے ذکر کیا، اس کا جہاں تک تعلق ہے ، لگتا ہے اس کے دل میں تو اسلام اور آنحضرت اور قرآن کریم اور مسلمانوں کے لئے بغض اور کینہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔جس کا اظہار اس نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ان صاحب کا نام ہے غیرت ولڈرز (Geert Wilders)۔کیتھولک گھر میں یہ پیدا ہوا لیکن رپورٹ کے مطابق مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ان لوگوں کو بھی جب اپنے مذہب میں سکون نہیں ملتا اور سمجھ نہیں آتی۔خدا تک تو پہنچ نہیں سکتے تو پھر اسلام کو بھی بُرا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں، اس پر الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔بہر حال یہ صاحب کافی پرانے اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والے ہیں۔برقع کے خلاف بھی جو سب سے پہلے ہالینڈ میں مسئلہ اٹھا تھا، یہی اس میں پیش پیش تھا۔بظاہر مذہب سے لا تعلق ہے لیکن اسلام کے خلاف بغض کی وجہ سے عیسائیت اور یہودیت کو بقول اس کے اسلام سے بہتر سمجھتا ہے۔سمجھے، لیکن اگر عقل رکھتا ہے تو اس زمانے میں جب مغربی ممالک کو تہذیب یافتہ ہونے کا دعوی ہے اور یہ صاحب اپنے آپ کو پڑھا لکھا بھی کہتے ہیں، ہمبر آف پارلیمنٹ بھی ہے، تو پھر دوسرے مذاہب کے بارے میں بیہودہ گوئی کرنے کا ان لوگوں کو حق نہیں پہنچتا۔چند افراد کے ذاتی فعل سے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی باتیں کرے کہ کوئی بھی عقلمند اور پڑھا لکھا انسان نہیں کر سکتا۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر وہ آج ہالینڈ میں ہوتے تو نعوذ باللہ دہشت گرد قرار دے کر ملک سے نکالتا۔تم نے کیا نکالنا ہے، تم تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ زمانہ دیکھنے والے ہو جب محمد رسول اللہ کے نام لیواؤں کی اکثریت ہر جگہ دیکھو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے لے کر آج تک کیا کیا کوششیں ہیں جو آپ کے مخالفین نے نہیں کیں۔کیا وہ کامیاب ہو گئے ؟ آج دنیا میں ہر جگہ، ہر ملک میں ، چاہے وہاں مسلمانوں کی تعداد تھوڑی ہے یا زیادہ ہے روزانہ پانچ وقت بلند آواز سے اگر کسی نبی کا نام پکارا جاتا ہے تو وہ اس رحمتہ للعالمین کا نام ہے۔جس کا دل باوجود ان مخالفتوں اور مخالفین کی گھٹیا حرکتوں کے انسانیت کا حق