ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 18
18 مشاہدہ کیا تو اس نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ آپ خدا کے نیک بندے ہیں اس لئے اس نے آپ پر غیب کی باتیں تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 115-116 ) ظاہر کر دیں۔جیسا کہ اوپر درج ہو چکا ہے کہ اس نازک ترین دور میں عیسائیت، آریہ سماج، بر ہم سماج وغیرہ منظم شکل میں اسلام پر حملہ آور تھے۔اسلام کے دفاع اور ناموس رسالت کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت تھی جس میں مختلف مذاہب کے مشترکہ حملوں کا علمی اور عملی عقلی اور منقولی سب ہی ہتھیاروں سے دندان شکن جواب دیا جائے۔اور اپنے روحانی تجربات اور حقانیت اسلام کے تازہ نشانوں کو پیش کر کے اسلام کی فضیلت اور خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور قرآن مجید کی فوقیت اور برتری کے ثبوت میں اندرونی اور بیرونی، ماضی اور حال کے زبر دست دلائل کی ایک ایسی عظیم الشان صف بستہ فوج کھڑی کر دی جائے کہ دشمن کے مورچے بے کار ہو جائیں اور اسلام فاتحانہ شان کے ساتھ ہر قلب سلیم میں داخل ہو جائے۔چنانچہ دین حق کے سپہ سالار حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ہاتھ میں قلم لیا اور روح القدس کی تائید سے نہایت مختصر وقت میں ایک معرکہ آراء کتاب " براہین احمدیہ " تصنیف فرمائی۔یہی وہ مبارک کتاب تھی جس کے متعلق آپ کو عالم شباب میں بذریعہ کشف یہ خبر دی گئی تھی کہ قطبی نام کی ایک کتاب لکھنا آپ کے لئے مقدر ہے۔اس کتاب کو قطبی اس لئے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مضبوط دلائل اور مستحکم وغیر متزلزل براہین اور انوار و برکات کے لحاظ سے قطب ستارہ کی طرح روحانی کعبہ اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کا موجب بنے گی۔1880ء میں جب اس کتاب کا پہلا حصہ شائع ہوا تو اس میں آپ نے مذاہب عالم کو دس ہزار روپیہ کا انعامی چیلنج دیتے ہوئے یہ پر شوکت اعلان فرمایا کہ جو شخص حقیقت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دلائل کا جو قرآن مجید سے اخذ کر کے پیش فرمائے ہیں اپنی الہامی کتاب میں آدھا یا تہائی یا چوتھائی یا پانچواں حصہ ہی نکال کر دکھلائے۔یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو حضور ہی کے دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو آپ بلا تامل اپنی دس ہزار کی جائیداد اس کے حوالہ کر دیں گے۔بشرطیکہ تین ججوں پر مشتمل مسلمہ بورڈ یہ فیصلہ دے کہ شرائط کے مطابق جواب تحریر کر دیا گیا ہے۔واقعاتی لحاظ سے بھی براہین احمدیہ ہر جہت سے غیر مذاہب کے مقابل اسلام کی ترقی و سرفرازی کا موجب بنی۔براہین احمدیہ سے قبل کفر والحاد کا سیلاب جو نہایت تیزی سے بڑھ رہا تھا اس کے منصہ شہود پر آتے ہی یکسر پلٹ گیا اور عیسائیت کا وہ فولادی قلعہ جس کی پشت پناہی 1857ء کے بعد حکومت کی پوری مشینری کر رہی تھی پاش پاش ہو گیا۔اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں اسلام کی طرف سے کفر کے خلاف جو آخری روحانی جنگ ہونے والی ہے وہ انہی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی جو براہین احمدیہ کے روحانی اسلحہ خانہ میں پہلے سے موجود ہیں اور یوں اس روحانی کشف میں درج الفاظ کے مطابق اس کتاب سے اسلام زندہ ہوگا اور یہ کتاب اسلام کی تقویت کا باعث بنے گی۔