ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 387 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 387

387 عبادت کی طرف توجہ ہوگی تو پھر نتائج بھی نکلیں گے کیونکہ کوئی دعوت الی اللہ، کوئی تبلیغ کوئی کوشش، اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی ، اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہواور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور خالص ہو کر جھکنا اور تمام وہ حقوق جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہیں ادا کرنا ضروری ہے۔تمام ان باتوں پر ، ان حکموں پر عمل کرنا ضروری ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ سے ہر قسم کا معاملہ صاف رکھنا ضروری ہے۔بندوں کے حقوق ادا کرنے ضروری ہیں۔رحمی رشتوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور اپنے ماحول کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہیں۔جہاں جہاں، جس وقت کوئی احمدی جہاں کھڑا ہے اس کے ارد گرد جو بھی اس سے مدد کا طالب ہے اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔اگر تبلیغ کرنے والے کے پیغام پہنچانے والے کے اپنے عمل تو یہ ہوں کہ اس کے ماں باپ اس سے نالاں ہیں، بیوی بچے اس سے خوفزدہ ہیں، عورتیں ہیں تو اپنے فیشن کی ناجائز ضروریات کے لئے اپنے خاوندوں کو تنگ کر رہی ہیں، ہمسائے ان کی حرکتوں سے پناہ مانگتے ہیں ، ذراسی بات پر غصہ آ جائے تو ماحول میں فساد پیدا ہو جاتا ہے، تو یہ نیک اعمال نہیں ہیں۔ایسے لوگوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اپنے نمونے بہر حال قائم کرنے ہوں گے۔اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ، انشاء اللہ ، برکت ڈالے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی ادائیگی کرنے والے ہیں اور نیک نمونے قائم کرنے والے ہیں اور کامل اطاعت کرنے والے ہیں تو اس وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں گے۔" خطبہ جمعہ 26اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 631 تا 641) ہالینڈ کے ایم پی غیرت ولڈرز اور پوپ نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن خدا کا جو تصور پیش کرتا ہے۔اس کی رو سے ہمیشہ سزا دینے کی طرف مائل رہتا ہے۔رحیمیت نظر نہیں آتی۔امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت ثابت فرمائی جو سزا دینے پر حاوی ہے۔آپ اپنے خطبہ جمعہ مورخہ 26 اکتوبر 2007 ء کے آخر میں احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک احمدی کا فرض آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اسلام اور خدا تعالیٰ پر ہونے والے اعتراضات کے رڈ کے لئے عزیز اور حکیم خدا کا صحیح تصویر پیش کرے جوحسن و احسان میں بھی یکتا ہے اور اگر بندوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑتا ہے تو پھر زبردستی اور ظلم سے نہیں پکڑتا بلکہ ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑتا ہے اور حد سے بڑھے ہوؤں کو اس لئے پکڑتا ہے کہ دنیا میں امن اور سلامتی قائم ہو۔جہاں یہ پیغام ہم نے غیر مذہب والوں کو دینا ہے، ان کے اعتراضات رڈ کرنے ہیں وہاں مسلمانوں کو بھی یہ پیغام ہے کہ تم کہتے ہو کہ ہم عزیز خدا کو مانتے ہیں جس کا قرآن نے تصور دیا ہے لیکن یا درکھو کہ یہ حکم