ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 386
386 ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والی بنے اور روحانیت میں ترقی ہو اور اگر ایسا ہو جائے گا تو پھر یقیناً خدا پر الزام لگانے والے اس کے آگے جھکنے والے بن جائیں گے۔انشاء اللہ۔چند لوگوں کی حرکتوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔انشاء اللہ تعالی اس قوم میں احمدیت پھیلے گی اور جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے جرمن احمدی اپنے ہم قوموں کے اس ظالمانہ رویے سے شرمندہ ہو رہے ہیں۔آئندہ انشاء اللہ لاکھوں کروڑوں جرمن احمدی ان لوگوں کے خدا اور انبیاء کے بارہ میں غلط نظریہ رکھنے پر شرمندہ ہوں گے۔پوپ کی تقریر کا جواب تیار کرنے کی ہدایت پوپ کی تقریر کے جواب میں انہوں (جرمنی جماعت ) نے ایک چھوٹا سا جواب تیار کیا تھا تو میرے کہنے پر کہ ایک تفصیلی کتابچہ شائع کریں جرمنی کی جماعت وہ جواب تیار کر رہی ہے۔ان کو مرکز سے اور دوسری مختلف جگہوں سے ہم نے مواد مہیا کر دیا تھا۔یہ مرکزی طور پر تیار ہو رہا ہے اور اب تک تیار ہو جانا چاہئے تھا۔بہر حال میرے خیال میں آخری مراحل میں ہے۔اللہ کرے کہ جلد چھپ جائے تو پوپ کو بھی اور یہاں کے ہر پڑھے لکھے شخص کے ہاتھ میں پہنچ جانا چاہئے جس سے پتہ چلے کہ اسلام کا خدا کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے اور آپ کا اسوہ حسنہ کیا ہے۔وہ ہستی جس کو یہ ظلم اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا سمبل (Symbol) سمجھتے ہیں وہ تو سراپا رحم ہے۔رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والا ہے۔جو سب سے بڑھ کر پیار، محبت اور عاجزی کا علمبر دار ہے اور تعصب کی نظر سے نہ دیکھنے والے غیروں نے بھی جس کی تعریف کی ہے۔پس یاد رکھیں کہ لٹریچر اور تبلیغی مواد مہیا کرنا جہاں ملکی مرکز کا کام ہے وہاں میدان عمل میں اسے ہر گھر میں پہنچانا نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں پہنچانا، ہر چھوٹے بڑے، بوڑھے، جوان کا کام ہے۔آپ کا کام ہے مستقل مزاجی سے اس کام میں جتے رہنا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔نتائج پیدا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کی ہے لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو طریق بتایا ہے وہ بہر حال اختیار کرنا ہوگا۔ورنہ اپنی غلطیوں اور ستیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والی بات ہوگی۔تمام وہ حقوق ادا کریں جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہیں تبلیغ کرنے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرما دیا کہ صالح اعمال بجا لانے والے ہو اور مکمل طور پر فرمانبردار ہو۔نظام جماعت کا احترام ہو اور اطاعت کا مادہ ہو تبھی دعوت الی اللہ بھی کر سکتے ہو اور تم اس کا پیغام جو پہنچاؤ گے وہ اثر رکھنے والا بھی ہوگا۔کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ المُسْلِمِين ( حم سجده: 34) یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتا اور نیک اعمال بجالاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس اپنی حالتوں کو سب سے پہلے اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا جس کی آپ تبلیغ کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی