ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 383 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 383

383 سزا انہوں نے اپنے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ عمر قید ہی دینی ہے۔بہر حال قانون ہے کہ کسی کو پھانسی نہیں دینی کیونکہ انسان کی جان لینا انسانیت نہیں ہے۔بہر حال جب قتل کیا جائے تو جو قتل کر دے اس کو سزا نہیں دینی اور جو قتل ہوا، مقتول کا خاندان چاہے ساری زندگی اس کے بد نتیجے بھگتار ہے۔تو بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ جب ان لوگوں کو اس بات کا حق ہے کہ مجرم کو سزا دیں، کم دیں، زیادہ دیں، جس کو بہتر سمجھتے ہیں دیں، لیکن سزا دیتے ہیں۔تو وہ جو مالک گل ہے اس کو کیوں حق نہیں ہے کہ اس کا قانون توڑنے والے کو سزا دے۔لیکن یہ لوگ جو مذہب کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کے پاس اس بات کے رد کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے یا نہیں حاصل، اس لئے کچھ تو اس قسم کے لوگ انجانے میں اور اکثریت جان بوجھ کر مذہب کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔مذہب کی وہ بگڑی ہوئی شکل پیش کرتے ہیں جو انسان کی خود ساختہ ہے، نہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بعضوں پر اتارے گئے احکامات ہیں اور اس غلط تصویر کو پیش کر کے پھر کہتے ہیں کہ یہ وہ تعلیم ہے جو انبیا ءلاتے ہیں اور یہ تعلیم ہے جوان انبیاء کے خدا نے ان پر اتاری ہے۔پھر کہتے ہیں کہ پس ثابت ہوگیا کہ انبیاء بھی نعوذ باللہ فتنہ فساد ظلم کرنے والے تھے اور خدا بھی ایسا ہی ہے۔او پیرا مقام پر انبیاء کی ہتک پر مشتمل ایک ڈرامہ اب یہاں جوا و پیرا ( Opera) کا میں ذکر کر رہا تھا اس میں ڈرامہ رچایا گیا ہے جس میں انبیاء کی ہتک کی گئی ہے اس میں کہانی یہ بیان کی گئی کہ ایک جہاز سمندر کے طوفان کی زد میں آ گیا۔بادشاہ نے سمندر کے دیوتا کو کہا۔اس نے یہ دعا کی کہ اگر وہ محفوظ طریقے پر خشکی پر پہنچ گیا تو سب سے پہلے جس شخص کو دیکھے گا اس کی قربانی پیش کرے گا۔اتفاق سے سب سے پہلا شخص جس پر اس کی نظر پڑی وہ اس کا اپنا بیٹا تھا۔تو اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔سنا ہے یہ کہانی تین سال پہلے بھی دہرائی گئی ہے۔تو پہلے جو کہانی تھی اس میں یہ تھا کہ اس پر خدا ناراض ہو جاتا ہے اور دیوتا ناراض ہو جاتا ہے، قوم پر بڑی تباہی آتی ہے۔اس پر بادشاہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے تو عذاب ٹلتا ہے۔اب کیونکہ مذہب کا بھی مذاق اڑانا تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانا تھا، نشانہ بنانا تھا۔اس لئے اب کہانی میں ذراسی تبدیلی کر کے ایک یونانی دیوتا اور ایک حضرت بدھ ، حضرت عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط قسم کی منظر کشی کر کے نہایت ظالمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔بہر حال اب کہانی کو اس ظالمانہ منظرکشی کے بعد اس طرح بدلا گیا ہے کہ بادشاہ نے قربانی نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس میں اب کہتے ہیں کہ وہ ٹھیک تھا اور انسانی عقل کو خدا کے ظالمانہ فیصلے پر غالب آنا چاہئے تھے۔اور انبیاء کو اب انہوں نے خدا تعالیٰ کے عمومی ظلموں (نعوذ باللہ ) کے اظہار کے سمبل (Symbol) کے طور پر پیش کیا ہے۔تو یہ ڈرامہ یہاں ایک دفعہ دکھایا جا چکا ہے اور چند دن تک دوسری دفعہ بھی ان کا دکھانے کا ارادہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔