ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 382 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 382

382 کہلانے والے بھی دنیا پرستی سے یا دنیا والوں کے خوف سے یا شعوری اور لاشعوری طور پر شرک خفی یا ظاہری میں مبتلا ہو کر اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو مذہب سے اور خدا سے دور لے جانے والی منزل ہے۔ماضی میں استہزاء کرنے والوں کی پکڑ اور موجودہ اقوام کو انتباہ ماضی میں بھی اس قبیل کے لوگ تھے جنہوں نے انبیاء کا انکار کیا، ان سے استہزا کیا، برائیوں اور شرک میں ڈوب گئے اور پھر اس کے نتیجہ میں ان پر عذاب بھی آئے۔اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء اس لئے بھیجے تھے یا بھیجتا ہے کہ ان کو مان کر بگڑے ہوئے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اس دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔لیکن انکار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد باوجود وارننگ کے اور باوجود سمجھانے کے اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب کے نیچے آگئی ہے۔بعض کی تاریخ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہم تک پہنچائی اور ان برائیوں کا ذکر کیا جو ان قوموں کے لوگوں میں رائج تھیں۔آج دیکھ لیں وہ کونسی برائی ہے جو گزشتہ قوموں میں تھی اور جس کا خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور آج کل کے لوگوں میں نہیں ہے اور انبیاء کے سمجھانے کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا سوائے چند لوگوں کے وہ ان بُرائیوں سے نہیں رکے تھے۔ان قوموں کے لوگ بے حیائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، اخلاقی برائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، تجارتوں کی دھو کے بازیوں میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔یہ لوگ اگر چھوٹے پیمانے پر دھو کے بازی نہیں کرتے تو بڑے پیمانے پر دھو کے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔اپنے ہم قوموں سے نہیں کرتے تو غیر قوموں سے دھو کے بازیاں ہورہی ہوتی ہیں۔تو یہ سب کچھ یہاں بھی چل رہا ہے۔جھوٹ میں وہ لوگ انتہا تک پہنچے ہوئے تھے جو آج بھی ہمیں نظر آتا ہے۔شرک میں وہ لوگ بڑھے ہوئے تھے جو آج بھی ہم دیکھتے ہیں۔غرض کہ مختلف قوموں میں مختلف بُرائیاں ایسی تھیں جن میں وہ حد سے بڑھے ہوئے تھے اور انبیاء کے سمجھانے پر باز نہیں آتے تھے۔تو پھر جس کی مخلوق ہو، جس نے کسی خاص مقصد کے لئے انسانوں اور جنوں کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔اس کے مقصد کو پورا نہیں کرو گے تو اس کے عذاب کو سہیٹر نے والے بنو گے۔یہی منطقی نتیجہ ان حرکتوں کا نکلتا تھا اور ماضی میں نکلتا رہا اور آئندہ بھی نکلے گا اور ہم نکلتا دیکھ بھی رہے ہیں۔ورنہ پہلی قو میں حق رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں کہ ہمیں تو ان بُرائیوں کی وجہ سے سزا ملی اور ہمارے بعد میں آنے والے آرام سے رہے، ان کو کوئی سزا نہیں ملی۔اللہ کیونکہ مالک بھی ہے بعض کو اس دنیا میں سزا ملتی ہے ، بعض کو مرنے کے بعد لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ایسے لوگ پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے ضرور آتے ہیں۔یہ جو آج کل کہتے ہیں نا کہ خدا تعالیٰ ظالم ہے۔یہ خدا تعالیٰ نہیں ہے جو انبیاء کے ذریعہ سے لوگوں کی ایسی حالت کر دیتا ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں بلکہ یہ اس قماش کے وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلموں کی وجہ سے سزا پاتے ہیں۔اگر انسانی قانون کو حق ہے جو انسان کا بنایا ہوا قانون ہے جو اکثریت کے رڈ کرنے سے تو ڑا بھی جاسکتا ہے، بدلا بھی جاسکتا ہے، کم و بیش بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف چلنے والے کو سزا ملے۔ویسے تو کہتے ہیں ہم انسانیت کے بڑے ہمدرد ہیں مثلاً یورپی ممالک میں عمر قید تو کسی شخص کو دیتے ہیں۔ایک انتہائی