ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 384 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 384

384 اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے انبیاء کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے ان دنیا داروں کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اندازہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے انبیاء کی بڑی غیرت رکھتا ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں، اس نبی کی بہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جس عظیم نبی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے تجھے پیدا نہ کرنا ہوتا تو یہ زمین و آسمان پیدا نہ کرتا۔تو جس خدا کی ربوبیت اور رحمانیت کے صدقے یہ لوگ دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہو رہے ہیں اسی پر الزام لگا رہے ہیں۔جس درخت پر ، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔تو ان کو کوئی کہے کہ ظالم اور ناشکرے تو تم ہواے دنیا دارو! اور عقل کے اندھو!۔مجھے پتہ چلا ہے کہ اس کو زیادہ اٹھانے والے وزراء اور بڑے لوگ ہیں کیونکہ جو تھیٹر کی ڈائریکٹر جو عورت تھی شاید اس نے ایک دفعہ اس بات کو، اس چیز کو کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا کہ انبیاء کا حصہ کاٹ دیا جائے۔لیکن ان وزراء اور بعض لوگوں نے کہا نہیں ضرور دکھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ان لوگوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان کا اپنا یہ حال ہے کہ اخلاقی برائیوں کی انتہا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔غلاظت میں مبتلا ہیں اور حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔انہوں نے تو یہ کہنا تھا کہ ایسی برائیوں کو پھیلا ؤ تا کہ ان پر پردہ پڑا رہے۔مذہب کے تو وہ خلاف ہیں۔احمدیوں کے نزدیک تمام انبیا ء قابل احترام ہیں پھر ایک اور بات بھی اس میں عجیب ہے کہ اس میں حضرت موسی کو کہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔ہم قطعا یہ نہیں کہتے کہ ان کو بھی کرنا چاہئے تھا۔ہمارے نزدیک تمام انبیاء قابل احترام ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔لیکن ان کی نیت کا پتہ چلتا ہے کہ کیا ہے۔بعض کا یہ خیال ہے، اخباروں والوں کا بھی ، کہ یہودیوں کو اس سے ٹھیس پہنچے گی۔لیکن اتنی سی بات نہیں ہے۔میرے خیال میں اس سے بہت آگے کی بات ہے۔یہ اسلام کے خلاف بھی ایک بہت گہری سازش ہے۔اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کو دشمن کے ہر شر سے بچائے۔ایسی گھٹیا حرکتوں سے روکنے کے لئے ایک احمدی کی ذمہ داری آج دشمنوں کی ان حرکتوں کا جواب دینا اور دنیا کواللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔پس ان کو بتائیں ، ہر احمدی اپنے ہر جاننے والے غیر کو بتائے۔ان مسلمانوں کو بھی ہر احمدی بتائے جو فقط نام کے مسلمان ہیں کہ کیوں ان بیہودہ حرکتوں پر ہاں میں ہاں ملا کر اپنے آپ کو نجات دلانے کے بعد آگ کے گڑھے میں گرا رہے ہو۔اور عیسائیوں اور لامذہبوں اور دوسرے مذاہب والوں کو بھی بتائیں کہ انبیاء کا آنا دنیا کی ہمدردی کے لئے ہوتا ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلموں سے نکالنے کے لئے بھیجتا ہے نہ کہ ظلم کرنے کے لئے۔آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ خدا جو اسلام کا خدا ہے جس نے اپنی صفت رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے تمہاری ان ظالمانہ حرکتوں کے باوجود تمہیں نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اس کی طرف آؤ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔اس بات کو اپنے