ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 381 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 381

381 بیہودہ باتیں کی گی ہیں جیسا کہ یہاں جب پوپ آئے تھے تو انہوں نے یو نیورسٹی میں اپنے لیکچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام میں خدا کے تصور کے بارے میں ہرزہ سرائی کی تھی۔ایسی باتیں کیں کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ اس مقام کے شخص بھی جو امن کے دعویدار اور محبتیں پھیلانے کے دعویدار ہیں ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔آزادی کے نام پر غیر اسلامی اور بعض اسلامی تنظیموں کا اس طرح کے لیکچرز کو جائز قرار دینا لیکن جس آزادی کے نام پر انہوں نے باتیں کیں یا بعض لیڈروں کے بیانوں میں دیکھنے میں آتی ہیں یا مختلف اوقات میں اسلام کے بارے میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہایت گھٹیا اور دل آزار باتیں اخباروں میں لکھی جاتی ہیں۔اس آزادی نے اپنا پھیلا ؤ اس حد تک کر لیا ہے کہ یہاں کے جور بہنے والے اور کچھ نہ کچھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اس آزادی نے ان کے مذہب عیسائیت اور حضرت عیسی جو ان کے یعنی عیسائیوں کے تصور کے مطابق خدا ہے، کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اور یہاں گزشتہ دنوں اوپرا (Opera) میں جو ایک ایسا گھٹیا قسم کا ڈرامہ دکھایا گیا ہے جس پر عیسائیت یا مذہب سے ہٹی ہوئی اکثریت نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو جائز قرار دیا ہے اور نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ پسند بھی کیا۔یہ ستم ظریفی اس حد تک ہے کہ بعض مسلمان تنظیموں کے لیڈروں نے بھی اس کو جائز قرار دیا۔اس میں ترک لیڈر بھی شامل ہیں ، دوسرے بھی ہیں۔بہر حال مذہب سے لگاؤ رکھنے والا ایک عیسائی طبقہ ایسا بھی ہے اور بعض پادریوں نے بھی جب ہمارے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ، بات کی تو انہوں نے احمدیوں کے احتجاج کو جائز قرار دیا اور اس حرکت کو غلط اور دوسروں کے جذبات سے کھیلنے والی اور آزادی اظہار کے نام پر دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی قرار دیا اور خدا اور انبیاء کی عزت پر حملہ قرار دیا۔اور حقیقت بھی یہ ہے کہ آزادی کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیل کر پھر یہ کہتے ہیں کہ اس پر اعتراض کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ مغرب کی آزادی ضمیر و اظہار کے خلاف آواز اٹھا رہے ہوا اور پھر ایسا شخص جو بھی یہ آواز اٹھائے گا اس کو پھر ہمارے معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔پھر جہاں تمہارا ملک ہے، وطن ہے، وہاں جاؤ۔اپنے لئے یہ لوگ بڑے حساس جذبات رکھتے ہیں۔اپنے لئے یہ اصول ہے کہ ہم جو چاہیں کریں، جس طرح آزادی سے اپنی زندگی گزارنا چاہیں گزاریں۔جس طرح چاہیں جس کو چاہیں جو مرضی کہیں۔اپنے لباس کا معاملہ آتا ہے تو جیسے چاہیں کپڑے پہنیں یا نہ پہنیں، بازاروں میں ننگے پھریں۔لیکن اگر ایک مسلمان عورت خوشی سے اپنے سر کو ڈھانک لے، اسکارف باندھ لے تو ان کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔مختلف موقعوں پر ایسا شوشہ چھوڑ کے اصل میں مسلمانوں کو ، نو جوانوں کو اسلام سے، دین سے بدظن کرنے کے لئے ، بد دلی پیدا کرنے کے لئے یہ مختلف نوعیت کے اعتراضات اسلام پر اٹھاتے رہتے ہیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا ( جس میں مغرب پیش پیش ہے ) مذہب سے دُور ہٹ رہی ہے اور بہٹنا چاہتی ہے کیونکہ ان کے پاس جو بھی مذہب ہے اس میں زندگی نہیں ہے۔زندگی دینے والا نہیں ہے۔انہوں نے تو بندے کو خدا بنا کر شرک میں مبتلا ہو کر آخر کو پھر اس حد تک جانا تھا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔لیکن مسلمان