ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 380 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 380

380 دنیا کے تمام مذاہب کو مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور تمام دنیا کے رہنے والوں کو آپس میں محبت ، پیار اور اخوت کے جذبہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔میری دعا ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور دنیا میں امن و محبت کو قائم کرنے نیز دنیا کو اپنے خالق کی پہچان کروانے کے لئے اپنا کردارادا کریں۔ہمارے پاس تو دعائیں ہی ہیں۔اور ہم مسلسل خدا سے یہ دعائیں کر رہے ہیں کہ دنیا اس تباہی سے بچ جائے۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہم اس تباہی سے بچ جائیں جو ہماری منتظر ہے۔والسلام ( دستخط) مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس - امام احمد یہ سلم جماعت عالمگیر خطبہ جمعہ 22 دسمبر 2006ء (الفضل انٹرنیشنل 9 مارچ2012ء) حضرت خلیفۃ اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ 2006 ء کے اخیر میں جرمنی تشریف لے گئے۔جہاں اسلام کے دفاع میں حضور نے بعض معرکہ آراء خطبات ارشاد فرمائے۔جن میں دشمنان اسلام کی نازیبا اور گھٹیا حرکتوں کا ذکر کر کے اسلام کی صحیح اور حقیقی تعلیم بالخصوص اسلامی خدا کے تصور کو اجاگر کیا۔کیونکہ کچھ عرصہ قبل پوپ نے جرمنی میں اسلام میں خدا کے تصور پر ایک لیکچر دے کر اسلامی تعلیم پر حملہ کیا تھا۔حضور نے اپنے خطبہ جمعہ 22 دسمبر میں اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے احباب جماعت کو بعض امور کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا:۔مغرب میں اسلام کے خلاف رؤ آج کل مغرب میں، مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف ایک لحاظ سے بڑی شدید رو چلی ہوئی ہے ، بعض کھل کر ذکر کرتے ہیں، بعض بظاہر مسلمانوں کے ہمدرد بن کر اسلام کی تعلیم کی بعض خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی زماندان پر عمل نہیں ہوسکتا اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اسلام کی تعلیم پر اس لئے اعتراض کرتا ہے کہ وہ مذہب کے ہی خلاف ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اور وجود کے ہی وہ لوگ منکر ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ خدا کی ذات کا تصور ہی ہے جس نے دنیا میں یہ سب فساد پھیلایا ہوا ہے۔پوپ کا اسلام کے خدا کے تصور پر لیکچر اور ہرزہ سرائی جیسا کہ میں نے اپنے ایک گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا کہ انگلستان میں بھی ایک کتاب چھپی ہے جس کو اس سال کی بہترین کتابوں میں شمار کیا جار ہا ہے اور اس کو سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کہتے ہیں۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کی نفی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی طرح جرمنی میں بھی اسلام اور خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق لغو اور