ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 379 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 379

379 لئے ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے دل کو دشمنی کے تمام تر جذبات سے پاک کرے اور اپنی قوت برداشت کو بڑھائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص ایک دوسرے کے نبی کی عزت و ناموس کے دفاع میں کھڑا ہو جائے۔دنیا اس وقت ایک بے چینی اور مشکل کا شکار ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ پیار اور محبت کا ماحول قائم کر کے ہم اس پریشانی اور خوف کو ختم کریں تا کہ ہم پیار اور امن کا پیغام اپنے ماحول میں پھیلا ئیں اور یہ کہ پہلے سے بھی زیادہ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے ہم اس انداز میں جینا سیکھیں جو پہلے سے بہتر ہو اور یہ کہ ہم انسانی اقدار کی پہچان کریں۔دنیا میں بعض جگہوں پر آجکل چھوٹے پیمانے پر لڑائیاں جنم لے رہی ہیں جبکہ بعض دوسری جگہوں پر عالمی طاقتیں قیام امن اور اس کے لئے کوششیں کرنے کی دعویدار ہیں۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ظاہری طور پر تو ہمیں ایک بات بتائی جارہی ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ در پردہ اپنی اصل تر جیحات اور پالیسیوں کی خفیہ طور پر پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا ایسے حالات میں دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہم دنیا کی صورت حال پر غور کریں تو بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک اور عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اگر صدق پر چلتے ہوئے عدل قائم کیا جاتا تو ہم دنیا کی موجودہ حالت نہ دیکھ رہے ہوتے جہاں یہ ایک دفعہ پھر جنگ کی زد میں ہے۔بہت سے ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور اس کی وجہ سے بھی عناد اور دشمنیاں بڑھ رہی ہیں۔اور دنیا تباہی کے دہانے پر جا پہنچی ہے۔اگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار چل پڑے تو ہم مستقبل میں آنے والی کئی نسلوں کو جسمانی معذوریاں دینے والے بنیں گے۔اور یہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ زیادہ ضروری ہے کہ اب دنیا کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ہم فوری طور پر دنیا کو اس تباہی سے بچانے کے لئے اپنی کوششوں کو بڑھائیں۔اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانے کیونکہ وہی ہے جو انسانیت کی بقاء کا ضامن ہے ورنہ دنیا تو بڑی تیزی سے اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔اگر آج انسان واقعتا قیام امن میں کامیابی حاصل کرنے کا خواہاں ہے تو دوسروں میں عیب تلاش کرنے کی بجائے اسے اپنے اندر کے شیطان کو زیر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اپنی برائیاں ختم کر کے انسان کو عدل کی بہترین مثال قائم کرنی چاہیے۔میں بار ہا دنیا کو اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ایک دوسرے کی نسبت حد سے بڑھی ہوئی یہ دشمنیاں انسانی اقدار کو نابود کر رہی ہیں اور اسی طرح دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔آپ چونکہ دنیا میں ایک نہایت موثر آواز کے حامل ہیں اس لئے میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ دنیا کو بتائیں کہ لوگ خدا کے قائم کردہ عدل کی راہ میں روکیں ڈالنے کی وجہ سے بڑی تیزی کے ساتھ مکمل تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اور یہ وہ پیغام ہے جسے روز روشن کی طرح نمایاں کر کے اس قدر وسعت سے پھیلانا چاہئے کہ جتنا پہلے کبھی نہ پھیلا یا گیا ہو۔