ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 378
378 اور معترضین، حقیقی اسلامی تعلیم کا مطالعہ کئے بغیر یہ اعتراضات کرتے ہیں۔بدقسمتی سے بعض مسلمان تنظیموں نے ذاتی مفادات کی خاطر اسلام کا انتہائی غلط تصور پیش کیا ہے۔جس کے نتیجے میں مغربی ممالک اور غیر مسلموں کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق بداعتمادی میں اس حد تک اضافہ ہوا ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی بانی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بے بنیا د اعتراض کرنے لگ گئے ہیں۔ہر مذہب کا مقصد یہی رہا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب لایا جائے اور انسانی اقدار قائم کی جائیں۔کسی بھی مذہب کے بانی نے یہ تعلیم نہیں دی کہ اس کے پیروکار دوسروں کے حقوق غصب کریں یا دوسروں سے ظالمانہ سلوک کریں۔لہذا ان چند بھٹکے ہوئے مسلمانوں کے اعمال کو اس طرح پیش نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی آڑ میں اسلام اور اس کے بانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کیا جائے۔اسلام ہمیں تمام بانیان مذاہب کی عزت کرنے کا سبق دیتا ہے اور اسی لئے ہر مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک بشمول عیسیٰ علیہ السلام، ان تمام انبیاء پر ایمان لائیں جن کا کتاب مقدس یا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔ہم تو رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنیٰ غلام ہیں۔اس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے جانے والے اعتراضات کے باعث ہم سخت دکھی اور غمزدہ ہیں۔اور اس کا اظہار ہم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ اور قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو پہلے سے بھی زیادہ کھول کر دنیا کے سامنے پیش کر کے، کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی خاص تعلیم کو ٹھیک انداز میں نہیں اپنا تا اور اس کے باوجود وہ اس دین کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس میں تعلیم کی غلطی نہیں بلکہ وہ شخص غلطی خوردہ ہے جو اس تعلیم کی صحیح رنگ میں پیروی نہیں کر رہا۔لفظ اسلام کے معنی ہی امن، محبت اور حفاظت کے ہیں۔یہ واضح قرآنی تعلیم ہے کہ دینی معاملات میں کوئی جبر نہیں۔قرآن کریم اپنے آغاز سے اختتام تک محبت، الفت، امن، مفاہمت، اور جذبہ قرآنی کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن کریم میں بار بار یہی ارشاد ہے کہ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا اور ایسا شخص اسلامی تعلیم سے بہت دور پڑا ہوا ہے۔اسی وجہ سے اگر کوئی شخص اسلام کو ایک انتہا پسند اور متشدد نذہب کے طور پر پیش کرتا ہے، ایک ایسے مذہب کے طور پر جس میں خون خرابہ کی تعلیم ہے تو ایسی تصویر کشی کا حقیقی اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔احمد یہ مسلم جماعت صرف اور صرف حقیقی اسلام کی پیروی کرتی ہے۔اور خالصتاً خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر کام کرتی ہے۔اگر کسی گر جایا کسی بھی عبادتگاہ کو حفاظت کی ضرورت ہو تو وہ ہمیں اپنے شانہ بشانہ اپنے ساتھ کھڑا ہوا پائیں گے۔ہماری مساجد سے اگر کوئی صدا گونجے گی تو وہ صرف اور صرف اللهُ أَكْبَر اور أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کی صدا ہوگی۔امنِ عالم کو تباہ کرنے میں اس بات کا بڑا دخل ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ذہین ہیں، پڑھے لکھے اور آزاد خیال ہیں۔اس لئے وہ بانیان مذاہب کو تمسخر کا نشانہ بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔معاشرے میں امن کے قیام کے